فراز عادل پاکستان سے تعلق رکھنے والے لکھاری ہیں۔ آپ نے 2014 میں جامعہ کراچی کے شعبہ فارمیسی سے ڈاکٹریٹ مکمل کیا۔ آپ زیادہ تر انگریزی اور اردو زبان میں میں فکشن کہانیاں لکھا کرتے ہیں مگر آپ کا مزاح، سنجیدہ افسانے، ملکی و غیر ملکی سیاست اور صحت پر آپ کی ذاتی ریسرچ کے آرٹیکلز بھی انتہائی دلچسپ ہوتے ہیں اور پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔
ناظرین عادل نیوز میں آپ سب کا خوش آمدید۔ ہمارے واحد سراخ
رساں، خبر رساں، سماج کے ہاتھوں ہراساں، نیم انساں اور فل ٹائم حیواں 'رشید خبری'
میں ہونے والی کچھ فنی و تکنیکی خرابیوں کے باعث ہم کچھ عرصے سے عادل نیوز نشر
نہیں کر پا رہے تھے۔ رشید خبری صاحب حال ہی میں جاپانی کمپنی سے ریپئرنگ
کہتے ہیں کہ ہزاروں سال پہلے جب زمین بھی دور سے نظر آنے والے چاند کی طرح خوبصورت
ہوا کرتی تھی اور لوگوں کے دلوں میں اخلاص اور سچائی تاروں کی طرح چمکتی تھی ۔ ۔
بحر ِمنجمد سے متصل سرخ پہاڑوں کے عقب میں ایک ریاست "عدل نگر" ہوا کرتی
تھی۔۔ ریاست کی خوبی یہ تھی کہ چھوٹی سی ہونے کے باجود بیحد خوشحال تھی۔ ۔ سب لوگ
ہنسی خوشی رہتے، ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ۔ ۔ ہمسائیوں کا خیال رکھتے۔ ۔
کوئی بھی شخص
روزے دارو ۔ ۔ اللہ نبی کے پیارو۔ ۔ آپ سب کو میرا اسلام و علیکم:
سب ہی گرمی سے پریشان اور لوڈ شیڈنگ سے عاجز ہیں لیکن موسم
اب بس بہتر ہوا ہی چاہتا ہے انشاء اللہ جیسا کہ خبروں میں بھی بتایا گیا ہے کہ پری
مون سون سسٹم سندھ میں داخل ہو چکا ہے۔ اللہ تعالی اپنے بندوں کو ان کی ہمت سے زیادہ
نہیں آزماتا۔
کچھ ممبرز کا اصرار ہے کہ روزے میں پیاس سے بچنے کے ٹوٹکے
بتاؤں۔ افسوس کہ میں زبیدہ آپا نہیں ورنہ
گرمیوں کی حبس زدہ راتوں میں جب اچانک بجلی چلی جائے تو
انسان کے اندر کا 'لنگوئسٹ' جاگ اٹھتا ہے، اس کیفیت میں انسان دل ہی دل میں ایسے
الفاظ ایجاد کرتا ہے کہ شیطان بھی کانوں کو ہاتھ لگا کر وہاں سے لاحول پڑھتا دفع
ہوجاتا ہے کہ ایسی 'وُکیبلری' تو ہمارے اجداد نے بھی نہ سوچی۔ شکایت کیلئے کال
ملائیں تو جواب ملتا ہے کہ "جناب "لوڈ"
انتہائی
قابلِ احترام والدینِ طفلانِ ارضِ پاکستان۔ ۔ اسلام و علیکم۔
بے شک کہ آپ کی چپلوں، چمڑے کی بیلٹوں، نصیحتوں اور دعاؤں میں اتنا
اثر ہے کہ ایک پیدائشی کرکٹر بچہ ایم-بی-اے کر کہ بینک میں نوکر ہو جاتا ہے، مگر
جس قوم میں والدین ایسا ظلم کرنے لگیں اسے پھر اسی طرح ہار کی ذلت اٹھانی پڑتی
جسطرح 15 فروری کو انڈیا نے ہمیں چھٹی بار چھٹی کا دودھ یاد کروا کر رسوا کیا۔
سخت گرمی کی دوپہر میں اپنے بستر پر پسینے میں شرابور پڑے آپ
سوچ رہے ہوتے ہیں کہ آپ سے بہتر زندگی تو ان برفانی ریچھوں کی ہوتی ہے جو کم از کم
برف میں پکڑم پکڑائی تو کھیلتے ہیں۔ سخت بیزاری کی کیفیت آپ کے دل و دماغ کو جکڑ
لیتی ہے؛ گھر والوں کی بے اعتنائی، محبوب کی بے وفائی اور دوستوں کی دغا داری کا
احساس بھی یکلخت دل میں بڑی والی پھانس کی طرح چبھنے لگتا ہے، مستقبل کے حوالے سے
بھی آپ ایکدم سے کچھ تذبذب میں پڑ جاتے ہیں،