سکندرِ اعظم نے آدھی دنیا فتح کرنے کے بعد اپنے لاؤ لشکر کے
ساتھ ہند کے اطراف میں پڑاؤ ڈالا تو اپنی بے تحاشہ پھیلی ہوئی سلطنت کا سوچ کر اس
کے دل میں تفخر کا لاوا امڈ آیا۔ نشہ غرور میں اس نے اپنے سب سے بہترین نجومیوں
اور کاہنوں کو فوری طور پر طلب کیا اور کہا:
"زمین کے اس طول و عرض میں مجھ جیسا عظیم فاتح کسی نے
نہ دیکھا ۔ ۔ ۔ انسان کی تاریخ مجھ جیسے عظیم فاتح کا مماثل ظاہر کرنے سے قاصر ہے
۔ ۔ ۔ مگر میں جاننا چاہتا ہوں کہ کیا مستقبل میں کوئی ایسا مردِ آزما نظر آتا ہے
جو میری فتوحات کے اس انبار کو معمولی کر دکھائے؟"
خیمہ دربار میں سناٹا چھا گیا ۔ ۔ ۔





