پیر، 2 مئی، 2016

سیور - باب اول قسط نمبر 1: یقین کا نخلستان

باب اول
قسط نمبر 1

ہر ایک کی زندگی میں کچھ سوال ضرور ہوتے ہیں جن کا جواب تلاش کر لینا اس کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد ہوتا ہے۔ اکثریت اپنے سوالات کو پسِ پشت ڈال کر زندگی کی روانی کے ساتھ بہتے چلے جاتی اور اپنا مقصد حیات ہی فراموش کر بیٹھتی ہے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں میری ذاتی رائے کیا ہے میں اسے محفوظ رکھنا چاہتا ہوں البتہ اتنا ضرور بتاؤنگا کہ میرا تعلق اس اقلیت سے ہے جو اپنے سوالات کے جواب حاصل کیے بنا چین سے نہیں بیٹھ پاتی۔ اور پھر میرے سوال ہیں بھی تو کتنے سادہ۔ کیا ہوا تھا؟ کیسے ہوا تھا؟ کیوں ہوا تھا؟ کیسے ہوتا ہے؟ کہاں ہوتا ہے؟  بس۔ اتنے آسان سے سوال ہوں اور جواب نہ ملے تو لازم ہے کہ تشویش اور بے چینی بڑھتی جائے۔ کیا کیا نہ کتابیں چھانیں اور کیسے کیسے بلند قامت اشخاص کو نہ کھنگالا مگر سب بے سود۔ جواب دینا تو دور میں نے اپنے سوالات کے آگے اعلی ترین  فلسفیوں اور دانشوروں کی زبانیں یوں ساکت ہوتے دیکھیں جیسے اب زندگی بھر کلام نہ کر پائینگے۔ مجھے اس بات سے کوئی فرق نہ پڑتا کہ میں نے ان اعلی دماغوں کو ان کی بے بسی اور لا علمی کھول کر دکھا دی۔ مجھے جوابات سے غرض تھی۔ مگر مسئلہ جوں کا توں تھا یعنی کون ہے جو مجھے بتا دے؟ کون ہے جو مجھے دکھا دے؟
ایک روز اسی طرح پریشان بیٹھے خیال گزرا۔ کیوں نہ اللہ تعالی سے مدد مانگی جائے؟ اس کیلئے تو کچھ مشکل نہیں نا ممکن نہیں۔ بس دل نے گواہی دی کہ وہی ذات اقدس ہے جو تیری پریشانی حال کر دے گی اور تیرے قلب کو سکون سے بھر دے گی۔ چنانچہ رات بھر اس کے حضور گڑگڑا کر دعا کی اور دعا کرتے کرتے ہی آنکھ لگ گئی۔
اب آنکھ کھلی تو کیا دیکھتا ہوں کہ چار دیواری یکسر ناآشنا ہے۔ میں ایک چٹائی پر لیٹا تھا اور چٹائی کے نیچے مٹی صاف محسوس ہوتی تھی یعنی پکا فرش نہ تھا۔ دیواریں کچی اینٹوں کی بنی ہوئی تھیں، سر پر بھی پکی چھت نہ تھی بلکہ کھجور کے درخت کے تنوں سے چھپڑا سا بنایا ہوا تھا۔ انجان جگہ پر خود کو پا کر نیند فی الفور کافور ہو گئی۔ اٹھ کر بیٹھا اور قریب تھا کہ چیخ مار کر باہر کی جانب دوڑ لگا دیتا کہ اچانک جھونپڑے پر دروازے کے فرائض سرانجام دیتا ٹاٹ کا پردہ ہلا اور ایک مرد بزرگ جن کے چہرے سے اطیمنان اور ایمان کی تجلیاں پھوٹتی تھیں اندر آ کر میرے سامنے بیٹھ گئے۔ ہونٹوں پر ہلکا سا تبسم تھا اور نظر التافات میری طرف۔ میں نے خود کو سنبھالا اور سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ بزرگ پیر کو دیکھتے ہی میرے اندر پیدا ہونے والی انجان سی بے چینی اور خوف یکلخت غائب ہو گئے اور ان کی جگہ سکون اور اپنائیت نے لے لی۔
"اسلام و علیکم ورحمتہ!" کیا ہی شگفتہ و شیریں آواز میرے پردہ سماعت سے ٹکرائی۔ مارے ادب کے میرا تنا ہوا جسم ڈھیلا سا پڑ گیا۔ "وعلیکم السلام" میں بس اتنا ہی جواب دے پایا۔ بزرگ میرے باختہ حواس دیکھ کر خموشی سے اٹھے اور کونے میں پڑی صراحی سے مٹی کا پیالہ بھر کر میرے حوالے کر دیا۔ میں نے دونوں ہاتھوں سے قبول کر کہ منہ سے لگانا چاہا ہی تھا کہ اچانک یاد آیا بسمہ اللہ پڑھنی چاہیئے۔ مدتوں بعد پانی پینے سے پہلے یوں بسمہ اللہ پڑھنی یاد آئی تھی۔
پانی ٹھنڈا اور میٹھا تھا۔ یوں محسوس ہوا جیسے گلے سے اترتے ہوئے اس پانی نے مجھے اندر سے دھو ڈالا ہو۔ ایک عجیب سرشاری اور سکون سا دل و دماغ میں پھیلتا چلا گیا۔ یہاں کی فضا بھی کتنی سادہ مگر پر تاثیر تھی جیسے ہر سانس کے ساتھ باطن کا غبار چھٹتا جا رہا ہو۔
"میں۔۔۔ کہاں پر ہوں؟" میں نے ادب سے دھیمے لہجے میں استفسار کیا۔
"آپ جزیرہ عرب میں ہیں اور فی الحال احقر کے مہمان ہیں۔" بزرگ نے اسی طرح مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ "جزیرہ عرب۔۔۔" میں منہ ہی منہ میں حیرت سے بڑبڑایا۔ "آپ۔۔۔ کون۔۔۔ آپ کا اسم شریف؟" جزیرہ عرب پر آنکھ کھلنے کی حیرت تو اپنی جگہ تھی ہی پر ایسے بزرگ باکمال کے آگے جملوں کی مؤدبانہ ترتیب لگانا بھی مجھ جیسے بے فکر نوجوان کیلئے مشکل کام تھا۔ "خاکسار کو عزیز پیار سے بابا صحرائی نقشبندی بلاتے ہیں۔" "بابا۔صحرائی۔نقشبندی" میں نے غائب دماغی سے الفاظ دہرائے۔ "جی بالکل۔" مسکراتی آواز میں جواب آیا۔ "آپ کیا کرتے ہیں؟" میں نے پوچھ ہی لیا۔ "میں بھٹکے ہوؤں کو راستہ بتاتا ہوں، سائل کو جواب دیتا ہوں، کیوں کہاں کب کیسے؟ جو واقعی آرزومند ہو اسے دکھلا بھی دیتا ہوں۔" میرے کان کھڑے ہو گئے۔ "کیا واقعی؟" میں نے بے یقینی سے پوچھا۔ "میں جھوٹ نہیں بولتا۔" بزرگ نے برا منائے بغیر کہا مگر میں شرمندہ ہو گیا۔ "لیکن کیسے؟ کیسے پتہ لگے گا؟ کیسے دیکھ پاؤنگا کہ کیا ہوا تھا؟ کیا ہوتا ہے؟ سب کیسا ہے؟ کہاں ہے؟؟" میں جلدی جلدی کہنے لگا۔ "کچھ محنت لگتی ہے، کچھ مشقت اٹھانی پڑتی ہے۔" جواب آیا۔ "من تیار شدم" میں نے فوراً جواب دیا۔ بزرگ نے مسکرا کر آنکھیں بند کر لیں۔ کچھ ساعتیں یونہی خاموشی سے گز گئیں۔ پھر ان کے لب ہلے:
خویش را شنیدم
خویش را گزیدم
از خود ربودم 
از خود نابودم 
من کیست خویشتنم
من چیست خویشتنم
میں نے خود کو سنا، میں نے خود کو چُنا، میں خود سے میں نے اچک لی، میں خود سے میں ختم ہوگئی، میں کون ہے؟ میں خود ہوں۔ میں کیا ہے؟ میں خود ہوں۔
من ازو میشود قائم
ہم چنین گردد دائم
این اثر باصل میبود 
نقل قائم باصل میبود 
اصل رحمت و اثر این جہاں
من از یافت و او ھست پنہاں
میں وہ سے قائم ہوتی ہے، ایسے ہی وہ ہمیشگی والی ہوجاتی ہے، یہ اثر اصل سے ہوتا ہے نقل اصل سے قائم ہوجاتی ہے، اصل رحمت اور اثر یہ دنیا ہے، میں پانے سے اور وہ پنہاں ہے۔
بابا یہ اشعار کہ کر اٹھے اور کہیں باہر چلے گئے جبکہ میں ان کی کہی ہوئی باتوں پر غور کرتا رہ گیا۔
سورج کافی چڑھ چکا تھا اور اس کی تیز شعاعیں اب خستہ حال چھپڑ سے اندر داخل ہو رہی تھیں۔ ساتھ ہی پیٹ نے احتجاج کر کہ احساس کروایا کہ میں نے کئی گھنٹوں سے اس میں کچھ نہیں ڈالا۔ جھونپڑے میں کھانے کیلئے کچھ موجود نہیں تھا۔ باہر جا کر کچھ کھانے کیلئے بھی حاصل کر لیا جائے اور بابا کو بھی تلاش کر لیا جائے یہ سوچ کر میں بھی جھونپڑے سے باہر نکل آیا۔ البتہ یہ انتہائی غلط قدم ثابت ہوا کیونکہ باہر کا منظر دیکھ کر میرے پیروں تلے زمین کھسک گئی۔
میں ایک لق و دق صحرا کے عین بیچوں بیچ کھڑا تھا۔ چاروں طرف مٹی ہی مٹی تھی اور دور دور تک نہ کوئی بندہ نظر آ رہا تھا نہ بندے کی ذات۔ میرے اوسان خطا ہونے لگے۔ حبس کا یہ عالم تھا کہ مٹی کا ایک ذرہ تک ہلتا ہوا نہ دکھائی دے رہا تھا، سورج بھی اچانک کچھ اور تیز محسوس ہونے لگا۔ میں گھبرا کر دوبارہ اندر آ گیا۔ بابا سے کی گئی باتوں کا سرور اترنے لگا اور جان کی فکر غالب آ گئی۔ اگر وہ اب واپس نہ آئے تو؟ میں گھر کیسے جاؤنگا؟ میں آخر ہوں کہاں؟ خوف کے مارے میں کونے میں دبک کر لیٹ گیا، جلد ہی ذہن کھلے صحرا میں بوکھلائے ہوئے اونٹ کی طرح اِدھر اُدھر بھاگتے بھاگتے تھک کر نڈھال ہو گیا اور میری آنکھ لگ گئی۔
کچھ ہی دیر میں کسی نے مجھے آہستگی سے ہلایا۔ میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ دیکھا تو بابا صحرائی کا نورانی چہرہ مسکراتے ہوئے سامنے پایا۔ میں اپنی بوکھلاہٹ پر کچھ شرمندہ سا ہو گیا۔ "آپ کے کھانے کا بندوبست ہو گیا ہے۔" انہوں نے اسی طرح مسکراتے ہوئے مجھے آگاہ کیا۔ کھانے کا نام سن کر میری بھوک چمک اٹھی۔ واقعی اس وقت کوئی لذیذ ڈش میری پریشانی کم کر سکتی تھی۔ مگر اس صحرا میں بھلا کھانے کیلئے کسی خشک پھل کے علاوہ کیا ملنا تھا؟ یہ سوچ کر میں کچھ مایوس سا ہو گیا۔ بابا شاید میری مایوسی سمجھ گئے اور پھرپور طریقے سے مسکرا دیے۔ پھر ہاتھ کا اشارہ باہر کی جانب کیا۔ میں نے پہلے سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھا پھر خاموشی سے اٹھ کر باہر آ گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ جھونپڑے سے کچھ دور دائیں طرف لکڑیوں کے ڈھیر پر آگ جل رہی ہے اور ایک چھوٹا  بکرا  چرخے میں لگا اس پر بھونا جا رہا ہے۔ حیرت اور خوشی سے میری آنکھیں تمتما اٹھیں۔ "میں اسی کیلئے گیا تھا۔" پیچھے سے بابا کی آواز آئی۔ وہ بھی جھونپڑے سے باہر نکل آئے تھے۔ "عموماً یہاں بھوک مٹانے کیلئے کھجوروں کے علاوہ کچھ استعمال نہیں ہوتا، البتہ جب آپ جیسے معزز مہمان آتے ہیں تو پھر کچھ خصوصی انتظامات کرنے ہی چاہیئیں۔" بابا آہستہ آہستہ چلتے ہوئے پاس آ گئے اور ایک ہاتھ سے چرخہ پلٹنے لگے جبکہ دوسرے ہاتھ میں چھری تھامی ہوئی تھی۔ "پر آپ اسے لائے کہاں سے؟" میں نے بڑے شوق سے بکرے کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔ "یہاں سے بس کوئی چار پانچ فرلانگ دور، شمال کی جانب، وہ اس بڑے سے ٹیلے کو پار کر کہ۔۔۔" بابا نے 'وہ' پر زور دیتے ہوئے چھری سے ٹیلے کی طرف اشارہ کیا جو کافی دور معلوم ہو رہا تھا۔ "ایک ٹکڑا ہے زمین کا، سرسبز و شاداب۔ وہاں ہر قسم کے کھانے کے پھل اور جانور بکثرت مل جاتے ہیں۔ میں ٹھنڈا پانی بھی وہیں سے لاتا ہوں۔ اس پانی کی خاصیت ہے کہ جتنی بھی دیر گزر جائے گرم نہیں ہوتا۔" بابا انہماک سے گوشت بھونتے ہوئے تفصیل بتا رہے تھے۔ "اوہ، نخلستان۔ میں نے پڑھا ہے۔ صحرا میں سرسبز جگہ۔" میں نے مطمئن ہو کر سر ہلایا۔ پانی ٹھنڈا رہنے کی بات مگر گلے میں اٹک گئی۔ "مگر پانی کیسے۔۔۔؟" "وہ نخلستان نہیں ہے، سراب ہے۔" بابا نے گوشت کا پکا ہوا ٹکڑا چھری سے کاٹ کر میرے ہاتھ پر رکھا۔ تازہ تازہ آگ سے اترنے کے باجود حیرت انگیز طور پر وہ گرم نہیں تھا۔ اگر ہوتا بھی تو شاید مجھے محسوس نہ ہو پاتا کیونکہ بابا کے اس انکشاف نے میری ساری توجہ مبذول کر لی تھی۔ "سراب ہے؟ مگر سراب سے اصلی جانور اور پانی کیسے۔۔۔؟" یہ باتیں اس قدر عجیب تھیں کہ میں اپنے سوال بھی ٹھیک طرح نہیں پوچھ پا رہا تھا۔ "یقین سے۔" "یقین سے؟" "جی یقین سے۔ یقین سے یہ سراب حقیقت میں بدل جاتا ہے۔ جو لوگ بے یقینی سے کام لیتے ہیں ان کیلئے سراب ہی رہتا ہے، پھر وہ اس کے آس پاس ہی بھوکے پیاسے بھٹکتے رہتے ہیں مگر انہیں نہ کچھ نظر آتا ہے نہ ہی اس سے کچھ نفع حاصل کر پاتے ہیں۔ حتی کہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر جان دے دیتے ہیں۔ اور جو یقین سے کام لیتے ہیں انہیں اس سے ٹھنڈا پانی، لذیذ پھل و گوشت، دودھ اور شہد اور جس بھی چیز کی وہ تمنا کرتے ہیں مل جاتا ہے۔" میرے ذہن میں درجن بھر سوال پھر سے ابھرے، مگر کسی کا بھی جواب جاننا اس مزے دار بوٹی کا لطف اٹھانے سے زیادہ ضروری فی الحال محسوس نہ ہوا۔ بابا مجھے گوشت کاٹ کاٹ کر دیتے رہے اور میں سیر ہونے تک کھاتا رہا۔ یقین کے نخلستان کا راز پتہ لگنے کے بعد میں اب بیحد اطیمنان محسوس کر رہا تھا۔ یوں لگا جیسے سینے پر پڑا کوئی بھاری بوجھ اتر گیا ہو۔





0 comments:

Facebook Blogger Plugin: Bloggerized by AllBlogTools.com Enhanced by MyBloggerTricks.com

ایک تبصرہ شائع کریں