پیر، 2 مئی، 2016

سیور - باب اول قسط نمبر 1: یقین کا نخلستان

باب اول
قسط نمبر 1

ہر ایک کی زندگی میں کچھ سوال ضرور ہوتے ہیں جن کا جواب تلاش کر لینا اس کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد ہوتا ہے۔ اکثریت اپنے سوالات کو پسِ پشت ڈال کر زندگی کی روانی کے ساتھ بہتے چلے جاتی اور اپنا مقصد حیات ہی فراموش کر بیٹھتی ہے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں میری ذاتی رائے کیا ہے میں اسے محفوظ رکھنا چاہتا ہوں البتہ اتنا ضرور بتاؤنگا کہ میرا تعلق اس اقلیت سے ہے جو اپنے سوالات کے جواب حاصل کیے بنا چین سے نہیں بیٹھ پاتی۔ اور پھر میرے سوال ہیں بھی تو کتنے سادہ۔ کیا ہوا تھا؟ کیسے ہوا تھا؟ کیوں ہوا تھا؟ کیسے ہوتا ہے؟ کہاں ہوتا ہے؟  بس۔ اتنے آسان سے سوال ہوں اور جواب نہ ملے تو لازم ہے کہ تشویش اور بے چینی بڑھتی جائے۔ کیا کیا نہ کتابیں چھانیں اور کیسے کیسے بلند قامت اشخاص کو نہ کھنگالا مگر سب بے سود۔ جواب دینا تو دور میں نے اپنے سوالات کے آگے اعلی ترین  فلسفیوں اور دانشوروں کی زبانیں یوں ساکت ہوتے دیکھیں جیسے اب زندگی بھر کلام نہ کر پائینگے۔ مجھے اس بات سے کوئی فرق نہ پڑتا کہ میں نے ان اعلی دماغوں کو ان کی بے بسی اور لا علمی کھول کر دکھا دی۔ مجھے جوابات سے غرض تھی۔ مگر مسئلہ جوں کا توں تھا یعنی کون ہے جو مجھے بتا دے؟ کون ہے جو مجھے دکھا دے؟



پیر، 30 نومبر، 2015

عادل نیوز: مایوسی

adil news mayoosi
ناظرین اب کی  بار تو میں قسم اٹھا کر کہ سکتا ہوں کہ عادل نیوز کی نئی قسط میں تاخیر رشید خبری کی وجہ سے ہی ہوئی۔ نئی قسط کیلئے رپورٹنگ پر ان کا انتظار کرتے کرتے جب کئی گھنٹے گزر گئے تو میں نے ان کے گھر پر فون کیا۔ معلوم ہوا کہ موصوف ایک نئی خبر کا سن کر بھاگے بھاگے معلومات لینے گئے تھے اور جب واپس آئے تو خود کو کمرے میں بند کر لیا۔ کچھ دیر تک کمرے سے گدھے کے رینکنے کی آوازیں آتی رہیں تو گھر والے سمجھے کہ شاید حسبِ معمول کوئی مزاحیہ فلم لگا کر ہنسنے میں مصروف ہیں۔ مگر تھوڑی دیر بعد جب ریں ریں میں بھوں بھوں کی آمیزش ہوئی اور کرب جھلکنے لگا تو دروازہ بجا کر خیریت دریافت کی گئی۔ اندر سے جواب آیا کہ بس اب اس کمرے سے ان کی لاش ہی نکلے گی۔ رشید خبری کی خبر سن کر میرے اوسان خطا ہو گئے۔ موت تو بہرحال حق ہے اور رشید خبری کے مرنے سے کسی کو بھلا کیا فرق پڑ سکتا تھا کیونکہ ان کا تعلق نہ تو فرانس سے ہے نہ امریکہ سے مگر عادل نیوز کو کافی بڑا دھچکا لگ سکتا تھا اور میں سب کچھ برداشت کر سکتا ہوں مگر لوگوں میں مسکراہٹیں بانٹنے والی اس عادل نیوز کی راہ میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کر سکتا۔ سو میں نے اسی وقت دوڑ لگائی، چار چار سیڑھیاں ایک جست میں پھلانگتا گھر سے نیچے اترا، کمپاؤنڈ کی پارکنگ کی طرف رخ کیا، گاڑی سٹارٹ کی اور جب دیکھا کہ پڑوس کے شبیر انکل بھی پیچھے پیچھے بھاگے چلے آتے ہیں تو فوراً روڈ پر نکل آیا اور رکشہ پکڑ کر رشید خبری کے ہاں روانہ ہو گیا۔ "کمبخت چور اچکا کہیں کا جب دیکھو نقلی چابیوں سے میری گاڑی اسٹارٹ کر کے بھاگ جاتا ہے بدبخت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔" دور تک شبیر انکل کی مشفقانہ صدائیں گونجتی رہیں۔



ہفتہ، 21 نومبر، 2015

ملا کا چاند


mulla ka chandلیبارٹری میں پروفیسر حامد ہمیں مینڈک کے پھیپڑوں کے خلیات کا نظارہ خورد بین سے باری باری کروا رہے تھے اور ہم ابکائیاں لے لے کر نظارے سے محظوظ ہو رہے تھے۔ ملا کی باری آئی (تقریباً ہر کلاس میں ایک داڑھی والا لڑکا ہوتا ہے جس کا نام ملا ہی پڑ جاتا ہے) اور عادت کے مطابق اس نے خوب تسلی سے خلیات دیکھے اور مستقل سبحان اللہ کا ورد کرتا رہا۔ اس پر ہمارے روشن خیال پروفیسر کا چہرہ کچھ مزید ترچھا سا ہوتا چلا گیا اور نا پسندیدگی کے تاثرات چہرے پر بد نما پھوڑوں کی طرح ابھر آئے۔



منگل، 10 نومبر، 2015

اقبال ڈے

علامہ اقبال ڈے
ایک پکے سچے پاکستانی اوراوپر سے کچھ حد تک لکھاری ہونے کے ناطے میرا فرض عین ہے کہ میں اپنے پڑھنے والوں کو علامہ اقبالؒ کی شاعری پڑھنے اور سمجھنے کی تلقین کروں۔ اقبال نے جس قدر سادگی اور سلاست سے ایک اسلامی معاشرے کے افراد کی تربیت کی ہے یہ ہنر کسی اور شاعر کے نصیب میں نہیں آیا۔ آپ کا ایک شعر ملاحظہ ہو:



پیر، 2 نومبر، 2015

یہ مائیں بھی نا!!

yah_mayain_bhi_na
ڈاکٹر احمد کی امی کو جواب دے چکے تھے، اب وہ ہسپتال کے ایک کونے میں پڑی اپنی تکلیف دہ زندگی کے عوض ایک پرسکون موت کی دعائیں مانگ رہی تھیں۔

احمد شدید پریشان تھا۔ اسے کسی نے بتایا کہ ایک پیر صاحب کچھ دعائیں لکھ کر دیتے ہیں جنہیں پڑھنے سے مریض کو شفاء ہو جاتی ہے۔ احمد بھاگا بھاگا گیا



جمعرات، 29 اکتوبر، 2015

میری ناک

لوگ اور موسم دیکھتے ہی دیکھتے بدل جاتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ موسم بدلنے کا ہمیں انتظار رہتا ہے اور لوگوں کے بدلنے کا دھڑکا (اور بھی فرق ہونگے، ہمیں صرف یہی لگتا ہے، کیوں؟ کیونکہ ہماری مرضی!) سو دیکھتے ہی دیکھتے موسم نے کروٹ بدلی اور سورج کی تپش کو خود پر سے جھٹک ڈالا۔ ایک ہی دن میں سردی نے اپنی دھماکے دار اینٹری دے ماری اور جسم نے اپنی بیٹری ڈاؤن کر کہ پرزور احتجاج کرنا شروع کر دیا۔ سستی، کاہلی، زکام، ہلکا سا بخار، خراب گلہ وغیرہ موسمِ سرما کی خصوصی سوغات ہیں سو وہ اس بار بھی دل کھول کر اپنے ساتھ لایا۔

کل ہی کی بات ہے کہ ہم دن بھر کے 'آرام' سے تھکے ہارے بستر پر سونے کیلئے لیٹے تو اچانک کہیں سے سیٹیاں بجنے کی آواز آنے لگی۔



جمعہ، 2 اکتوبر، 2015

عادل نیوز: زار و قطار

ناظرین انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور بلآخر ہم حاظر ہو رہے ہیں آپ سب کی پسندیدہ و برگزیدہ عادل نیوز کی نئی قسط کے ساتھ۔

ناظرین تاخیر کی وجہ ہر بار کی طرح ہمارے اکلوتے جانباز رپورٹر/کیمرہ مین/صحافی 'رشید خبری' ہی ٹھہرے جو کہ عیدالفطر کے بعد ہی حج کے مقدس فریضے پر روانہ ہو چکے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ حج گناہوں سے پاک کر دیتا ہے اور ان کی معصوم سی زندگی میں کوئی قابلِ ذکر گناہ ہی نہیں اسلئے وہ حج سے قبل ایک دو مہینے دبئی کے پوش علاقوں میں گزارنا چاہتے ہیں۔
مدینہ منورہ میں داخل ہونے پر بھی ہمارے رشید خبری کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب محافظین نے ان کی شکل دیکھتے ہی 'مجوسی مجوسی' کا شور مچا دیا اور انہیں اٹھا کر وہاں سے باہر پھینک دیا گیا۔ خوشقسمتی سے اسی وقت وہاں ایک