باب اول
قسط نمبر 1
قسط نمبر 1
ہر ایک کی زندگی میں کچھ سوال ضرور ہوتے ہیں جن کا جواب تلاش
کر لینا اس کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد ہوتا ہے۔ اکثریت اپنے سوالات کو پسِ پشت
ڈال کر زندگی کی روانی کے ساتھ بہتے چلے جاتی اور اپنا مقصد حیات ہی فراموش کر
بیٹھتی ہے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں میری ذاتی رائے کیا ہے میں اسے محفوظ رکھنا
چاہتا ہوں البتہ اتنا ضرور بتاؤنگا کہ میرا تعلق اس اقلیت سے ہے جو اپنے سوالات کے
جواب حاصل کیے بنا چین سے نہیں بیٹھ پاتی۔ اور پھر میرے سوال ہیں بھی تو کتنے
سادہ۔ کیا ہوا تھا؟ کیسے ہوا تھا؟ کیوں ہوا تھا؟ کیسے ہوتا ہے؟ کہاں ہوتا ہے؟ بس۔ اتنے آسان سے سوال ہوں اور
جواب نہ ملے تو لازم ہے کہ تشویش اور بے چینی بڑھتی جائے۔ کیا کیا نہ کتابیں
چھانیں اور کیسے کیسے بلند قامت اشخاص کو نہ کھنگالا مگر سب بے سود۔ جواب دینا تو
دور میں نے اپنے سوالات کے آگے اعلی ترین فلسفیوں اور دانشوروں کی زبانیں یوں ساکت ہوتے
دیکھیں جیسے اب زندگی بھر کلام نہ کر پائینگے۔ مجھے اس بات سے کوئی فرق نہ پڑتا کہ
میں نے ان اعلی دماغوں کو ان کی بے بسی اور لا علمی کھول کر دکھا دی۔ مجھے جوابات
سے غرض تھی۔ مگر مسئلہ جوں کا توں تھا یعنی کون ہے جو مجھے بتا دے؟ کون ہے جو مجھے
دکھا دے؟






