کچھ دوستوں نے فرمائش کی
ہے کہ یمن میں شروع ہونے والی جنگ سے متعلق لکھا جائے۔ اگرچہ میں کئی
سالوں
سے لوگوں کو یقین دلا رہا ہوں کہ میں ایک فکشن رائٹر ہوں یعنی کہانیاں وغیرہ لکھا
کرتا ہے مگر پھر بھی لوگ بضد ہیں تو پھر میں اپنی رائے اس بارے میں پیش کردیتا
ہوں۔ اس سے اختلاف
رکھنے کا آپ پورا حق رکھتے ہیں اور آزادی رائے تو
بہرحال سب کا حق ہے اس لیے کمنٹس میں آپ اس حق کا بھرپور استعمال کرسکتے ہیں شرط
یہ ہے کہ زبان شائستہ رہے اور فرقہ واریت پر بات ہرگز نہ ہو۔
تو دوستو اس باقاعدہ جنگ
کے ساتھ ہم ایک نئے عہد میں داخل ہوچکے ہیں۔ امریکہ افغان جنگ میں بری طرح ناکام
ہو کر واپس تو جارہا ہے مگر آرام سے بیٹھنے اور اپنے کام سے کام رکھنے جیسی عظیم
نعمت سے یہ بالکل خالی ہاتھ ہے۔ جنگ کا رخ اب مشرق وسطیٰ کی طرف کر دیا گیا ہے اور
ایران نے امریکہ کو اپنی سنائپر رکھنے کے لیے کاندھا پیش کر دیا ہے۔ عراق، لبنان
اور شام میں امریکی سپورٹ کے ساتھ اپنی اچھی خاصی رٹ قائم کرنے کے بعد ایران کا
اگلا ٹارگٹ سعودیہ عرب تھا۔ تیل کی قوت سے مالا مال سعودی عرب نے جہاد کرنے سے
زیادہ کروانے پر زیادہ ایمان رکھا ہوا ہے اور اسی وجہ سے دنیا بھر میں جتنی بھی
جہادی تنظیمیں اس وقت سرگرم ہیں ان کی فنڈنگ سعودیہ عرب سے ہی کی جاتی ہے۔ بات صرف
جہادی تنظیموں تک ہی رہتی تو شاید معاملہ اتنا گمبھیر نہ ہوتا مگر ایک بہت بڑا
مسئلہ جو سعودیہ عرب کی تباہی کے راستے میں امریکہ اور اسرائیل کو درپیش ہے اس کا
نام ہے پاکستان۔
ہر کسی کا کوئی نہ کوئی
ایسا دوست ضرور ہوتا ہے جس کے لیے وہ جان دینے کے لیے بھی ہر وقت تیار رہتا ہے۔
پاکستان کے ایسے دو عدد دوست ہیں ۔ ۔ ایک زرد رنگ کے اور ایک گندمی رنگ کے یعنی
چین اور عرب۔ پاکستان کی مالی مدد کا ٹھیکہ عرب نے تب سے اٹھا رکھا ہے جب سے اس کے
ملک میں پہلا تیل کا کنواں دریافت ہوا۔ پھر خواہ ایٹمی پراجکٹ کے لیے رقم درکار
ہو، فوجی قوت بڑھانے کے لیے یا مالی بحران سے نمٹنے کے لیے۔ جب تک سعودیہ عرب سے
تیل نکلتا رہے گا پاکستان کو مالی طور پر غیر مستحکم کرنا ناممکن ہے۔ بدلے میں
پاکستان نے سعودی عرب کی حفاظت کا ذمہ اٹھا رکھا ہے۔ جبکہ چین سے لی گئی تکنالوجی
اور دیگر معاملات ایک الگ مضمون ہیں۔ اندرونی حالات خواہ کیسے بھی کیوں نہ ہوں
پاکستان پر سعودیہ عرب کا دفاع کرنا ایسے ہی لازم ہے جیسے خود پر حملے کا دفاع
کرنا۔ اسے مذہبی وابستگی کا رنگ دے کر ایک فرقہ اپنا خون بڑھا سکتا ہے اور دوسرا
فرقہ اپنا خون جلا سکتا ہے مگر اس جنگ میں پاکستان کے داخل ہونے کی اصل حقیقت یہی
ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے سعودی عرب کا دفاع کرنے سے پاکستان کو امریکہ کا براہِ راست
حکم بھی باز نہیں رکھ سکتا۔
عراق، شام، لبنان کی حد
تک تو سب ٹھیک رہا کیونکہ اس پر نہ سعودی عرب نے زیادہ چوں چراں کی اور پھر نہ ہی
پاکستان نے۔ مگر جیسے ہی معاملہ حرمین پر حملہ کرنے کی دھمکیوں تک آیا تو سعودیہ
عرب کے لیے خاموش رہنا آپشن نہیں تھا اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان بھی اس جنگ میں اب
براہِ راست شریک ہوچکا ہے چاہے کسی کو یہ بات پسند آئے یا نہ آئے۔ امریکہ کا پلان
بھی یہی تھا۔ اس کا اصل مشن ایران، عراق، لبنان اور شام کو عرب، ترکی، بحرین، قطر
اور یمن سے لڑوانا ہی تھا۔ ایک بات جو امریکہ اچھے طریقے سے جان چکا ہے وہ یہ ہے
کہ ایک ہندو اور مسلمان کو لڑوانا زیادہ مشکل ہے جبکہ شیعہ اور سنی کو لڑوانے کے
لیے بس پستول فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ ۔ دونوں میں سے کوئی نہ کوئی گولی ضرور چلا
دے گا۔ سب سے طاقتور سنی ملک پاکستان ہے اور اس کو لڑوانا تقریباً ناممکن تھا اس
لیے شیعہ طاقتور ملک ایران کو سبز باغ دکھائے گئے اور گولیاں چلنے لگیں جس میں اب
ہم بھی فرنٹ لائن پر کھڑے ہوچکے ہیں۔ خطے کے حالات آنے والے دنوں میں خراب سے خراب
تر ہونگے۔ وسطیٰ کے تمام ممالک اس جنگ میں لڑ ؒلڑ کر اس قدر کمزور پڑ جائیں کہ
گریٹر اسرائیل کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے اور اس کے خلاف مزاحمت کرنے کی کسی
مسلمان ملک میں سکت ہی نہ بچے یہی ہے اس نئے عہد کی نئی سازش۔ اس سازش کو صرف
ایران ہی ناکام بنا سکتا ہے اگر یہ فوری طور پر امریکہ کے دکھائے سبز باغات سے نکل
کر حقیقت جاننے کی کوشش کرے وگرنہ اب خود کو جنگ سے دور رہنا اس خطے کے کسی مسلمان
ملک کے بس میں نہیں رہا ہے۔
اللہ پاک دنیا میں امن
قائم کرے اور ان سازشوں کو ناکام بنائے۔ آمین!
؎فراز عادل

0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں