ہفتہ، 2 مئی، 2015

کہانیاں: مزدور ناراض ہیں ہم سے!

Faraz Adils' Urdu story on Labor's day
یومِ مزدور اسپیشل:


جدید و باوقار تراش خراش کا تھری پیس سوٹ پہنے ارشد صاحب جب اپنی شاندار چمکتی گاڑی سے نیچے اترے تو اسکول کے گیٹ پر بیٹھے سیکورٹٰی گارڈ نے فوراً اپنی جگہ سے اٹھ کر انہیں سلام پیش کیا اور ان کے ساتھ ایک چپڑاسی کو بھی اندر جانے کا اشارہ کر دیا تاکہ انہیں آفیس تلاش کرنے میں کوئی پریشانی نہ ہو۔

یہ اسکول شہر کے بہترین اسکولوں میں سے تو نہ تھا لیکن عام معیاری اسکولوں میں اس کا شمار شہر کے نمایاں اسکولوں میں ہوتا تھا جہاں متوسط طبقے کے لوگ اپنے بچوں کو اس بھروسے کے ساتھ داخل کروا سکتے تھے کہ ان کے بچے کسی طور بھی ہائی کلاس اسکولوں سے پڑھنے والے بچوں سے کم تر ہرگز نہ رہینگے۔ ارشد صاحب جس شان و شوکت سے اسکول آئے اس پر انتظامیہ بھی
حیران رہ گئی کہ اتنی ہائی کلاس سے تعلق رکھنے والے شخص کو ہمارے اسکول میں داخلہ کروانے کی کیوں کر سوجھ گئی۔ ایسی امیر فیملی سے تعلق رکھنے والے بچے کے اسکول میں ایڈمیشن ہونے سے اسکول کو اپنا اسٹیٹس ہائی کرنے میں مدد ملتی اس لیے ارشد صاحب کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ انتظامیہ اپنے بچوں کے ایڈمیشن کے لیے آئے والدین سے کافی بارعب انداز میں سخت انٹرویوز لے رہی تھی۔ بڑے اسکولوں کی دیکھا دیکھی انہوں نے بھی اپنی پالیسی قدرے سخت بنا دی تھی اور بچوں کو ایڈمیشن دینے سے پہلے والدین سے اچھی خاصی تفتیش کی جاتی کہ آیا وہ خود پڑھے لکھے ہیں یا نہیں، اور ان کا معاشرے میں کیا اسٹیٹس ہے کیونکہ ان پڑھ والدین کے بچوں کو اسکول میں پڑھانے سے اسکول کا نام خراب ہوتا تھا۔ انتظامیہ نے ارشد صاحب جیسے بڑے آدمی کو زیادہ دیر انتظار کروانا مناسب نہ سمجھا اور پہلے سے انتظار کرتے والدین کو چھوڑ کر انہیں انٹرویو دلانے کے لیے اندر لے گئے۔ ارشد صاحب کو دیکھ کر ماتھے پر تیوریاں ڈالے تیکھے سوالات پوچھنے والوں کے بھی ہاتھ پاؤں ڈھیلے پڑ گئے ۔ ۔ رہی سہی کسر ساتھ آئے چپڑاسی کے مخصوص اشارے نے پوری کردی جس کا مقصد انہیں خبردار کرنا تھا کہ موصوف کو 'خصوصی' ٹریٹمنٹ دیا جائے۔ رسمی فقروں کے بعد انٹرویو کا آغاز ہوا۔ پختہ عمر کے سر خرم سہیل نے انٹرویو کی ابتداء کی۔ "جناب ارشد صاحب آپ نے انٹرویو کے لیے صرف اپنا شناختی کارڈ ہی جمع کروایا ہے جبکہ ہم نے اپنے فارم پر یہ بات واضح لکھی تھی کہ انٹرویو دینے کے لیے تعلیمی سرٹیفکیٹ و ڈگریوں کی کاپی اور آمدن کے توثیقی دستاویزات کی کاپی بھی جمع کروانی ہوگی۔" انہوں نے سنجیدہ لہجے میں کہا۔ "دیکھیں جناب میرے پاس اس سب کے لیے بالکل وقت نہیں ہے۔ میں آپ کی پالیسی کا احترام کرتے ہوئے یہاں تک خود چل کر آگیا اسی کو کافی سمجھ لیں ورنہ 'فرسٹ اسکولنگ سسٹم' والے تو میرے ایک فون پر ایڈمیشن دینے کے لیے تیار ہیں۔" ارشد صاحب ناخوشگوار لہجے میں بولے۔ "جی جناب بالکل درست کہا اور یہ ہماری خوش نصیی ہے کہ آپ نے ہمیں ان پر فوقیت دی۔" سر خرم کے برابر میں بیٹھی میڈم مسرت نے فوراً چاپلوسی بھرے انداز میں ماحول کی تلخی کم کرنے کی کوشش کی۔ "ویسے کیا ہم پوچھ سکتے ہیں اس مہربانی کی وجہ؟" سر خرم نے پوچھا۔ "بس میں نے کچھ باتیں سنی ہیں اس اسکول کے بارے میں ایسی جس کی وجہ سے میں یہیں پر اپنے بیٹے کا داخلہ کروانا چاہونگا۔ کیا آپ کو کوئی اعتراض ہے؟" ارشد صاحب نے بظاہر روکھے انداز میں جواب دیا لیکن ان کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں ابھر آئی تھیں اور وہ بے چینی سے پہلو بدلنے لگے تھے۔ "نہیں نہیں جناب ہمیں بھلا کیوں اعتراض ہوگا۔" میڈم نے پھر ثالث کا کردار ادا کرنا چاہا۔ "بچے کی والدہ تشریف نہیں لائیں؟" سر خرم نے میڈم کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے سوال کیا۔ "وہ لندن گئی ہوئی ہیں کچھ دن گھومنے کے لیے۔ آپ نے ایڈمیشن دینا ہے تو بتا دیں ورنہ میں جاتا ہوں۔" ارشد صاحب کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا وہ ایک جھٹکے سے کھڑے ہوگئے۔ "دیکھیں یہ سب پوچھنا تو ہمارے فرائض میں شامل ہے ۔ ۔ خیر آپ ناراض ہوتے ہیں تو ہم رہنے دیتے ہیں۔ آپ باہر کاؤنٹر پر فیس جمع کروا دیں اور کتابیں خرید لیں۔" سر خرم نے شکستہ لہجے میں کہا۔ اس سے پہلے بھی وہ چپڑاسی کے مخصوص اشارے کے باوجود سخت انٹرویو لینے کی غلطی کر چکے تھے جس پر والدین نے ناراض ہو کر ایڈمیشن نہیں کروایا تھا اور نتیجتاً سر خرم کو اسکول کے مالک نے نہ صرف بے نقط سنائیں بلکہ نوکری سے فارغ کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔ ارشد صاحب کا موڈ سر خرم کو ڈھیلا پڑتا دیکھ کر ایکدم خوشگوار ہوگیا۔ "کوئی بات نہیں جناب۔ آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔" انہوں نے پرجوش انداز میں سر خرم سے ہاتھ ملایا۔ "پہلی تاریخ سے کلاسیں شروع ہوجائینگی۔" میڈم نے اپنا حصہ ڈالنا بھی ضروری سمجھا۔ ارشد صاحب نے انہیں بھی مسکرا کر سلام کیا اور تیزی سے باہر نکل گئے۔ سر خرم ان کے جانے کے بعد اپنا ہاتھ مسلنے لگے۔ "کیا ہوا ہے ہاتھ کو؟" میڈم نے ان کے جانے کے بعد سر سے پوچھا۔ "پتہ نہیں کتنا سخت ہاتھ تھا ان صاحب کا۔ ۔ کاروباری شخص کے بجائے کوئی لوہار معلوم ہوئے مجھے تو یہ ہاتھوں سے۔" انہوں نے برا سا منہ بنا کر کہا۔ "تو کسی لوہار کہ پاس ایسا لباس ہوتا ہے؟" انہوں نے طنزیہ انداز میں جواب دیا۔ سر خرم نے خاموشی سے سر جھکا لیا۔

ارشد صاحب نے کاؤنٹر پر پہنچ کر فیس وغیرہ ایک بار پھر کنفرم کی پھر جیب سے نوٹ نکال کر گننے لگے۔ "سر آپ کریڈٹ کارڈ بھی استعمال کرسکتے ہیں۔" کاؤنٹر کے پیچھے کھڑی لڑکی نے ان کی شخصیت سے متاثر ہوتے ہوئے ان کی مدد کرنی چاہی۔ "نہیں شکریہ میں کیش کا لین دین ہی زیادہ پسند کرتا ہوں۔" انہوں نے بھرپور انداز میں مسکراتے ہوئے کہا اور فیس جمع کروا کر باہر نکل آئے۔ ان کے چہرے پر کسی فاتح کی سی مسکراہٹ رقص کر رہی تھی۔ ڈرائیور نے انہیں باہر آتا دیکھ کر فوراً گاڑی کا دروازہ کھولا اور وہ گاڑی میں بیٹھ کر اپنی منزل کی جانب روانہ ہوگئے۔ اسکول سے کافی دور آ کر ڈرائیور نے خاصی بے تکلفی سے پیچھے گردن گھما کر پوچھا "کیسا رہا یار بتا بھی دے اب تو اسکول بہت پیچھے رہ گیا ہے؟؟" "سب ٹھیک ہوگیا میرے یار سب ٹھیک ہوگیا۔ ۔ حارث کا ایڈمیشن ہوگیا اسکول میں!" ارشد صاحب نے خوشی سے چلاتے ہوئے کہا۔ "وہ مارا !! مجھے پتہ تھا تجھے اداکاری میں کوئی نہیں ہرا سکتا۔" ڈرائیور بھی خوشی سے اچھلتے ہوئے بولا۔ "ہاں یار تو نے ٹھیک کہا۔ پتہ ہے وہاں ایک سر تھا بڑا ظالم قسم کا مجھ سے سارا وقت الٹے سیدھے قسم کے سوالات پوچھتا رہا لیکن تیرے دوست نے اسے پکڑنے نہیں دیا اصل معاملہ۔" وہ فخر سے اپنی ٹائی ہلاتے ہوئے بولے۔ "اوئے بس بس جذباتی ہو کر ٹائی مت خراب کردیجو افضل تیری جان لے لیگا ورنہ۔ بیچارے نے اپنی نوکری خطرے میں ڈال کر تجھے اپنے صاحب کا سوٹ نکال کر دیا ہے۔ بالکل صحیح حالت میں واپس پہنچانا ہوگا۔" اس نے ہنستے ہوئے کہا۔ "ٹھیک کہتا ہے یار۔ تم لوگوں نے بہت ساتھ دیا ہے میرا۔ تیرے صاحب کو تو گاڑی لے جانے کا پتہ نہیں لگے گا؟" اس کی آواز بھرا گئی۔ "نہیں یار وہ اتنا سخت نہیں اس کی فکر نہ کر اور اتنا جذباتی نہ ہو، آخر دوست ہوتے کس لیے ہیں۔" ڈرائیور دوست جس کا نام بلال تھا پرسکون سے لہجے میں بولا۔ "ویسے مجھے بتا تو اس اسکول کی فیس دے پائے گا؟" اس بار بلال کی آواز میں پریشانی تھی۔ "دونگا یار۔ ۔ کچھ بھی کر کہ دونگا۔ اپنے بیٹے کو پڑھا لکھا افسر بنانا ہے میں نے بلال۔ ۔ تو جانتا ہے صبح سے شام تک کام کرنے کے باوجود مجھے اتنی دیہاڑی نہیں ملتی کے میں اپنے گھر والوں کو ایک اچھی زندگی دے سکوں۔ ۔ یاد ہے ناں جب سالوں پہلے اماں جان بیمار ہوئی تھیں۔ ۔ علاج کے پیسے تک نہیں تھے یار میرے پاس میری ماں کے لیے ۔ ۔ ایسے ہی بیماری میں میرے سامنے دم توڑ گئیں وہ اور میں دیہاڑی لگنے کی آس میں بیٹھا رہا ۔ ۔ کچھ بھی نہ کر سکا۔ ۔ یہاں ہم جیسے لوگوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے یار ۔ ۔ بلال کو ایسی زندگی نہیں جینے دونگا میں ۔ ۔ رات میں چوکیداری کی نوکری لگی ہے ایک جگہ۔ دن میں مزدوری کرونگا رات کو چوکیداری۔ ۔ ۔ مگر اپنے بیٹے کو مزدور نہیں بننے دونگا میں۔ ۔ ہاں نہیں بننے دونگا۔ ۔ اگر یہ بڑے لوگ ہمیں اتنا پیسہ بھی نہیں دے سکتے کہ ہمارے گھر کا چولہا جل سکے تو بلال یہ اب اپنے گھر بھی خود بنانا سیکھ لیں۔ ۔ ۔ ہاں !!" ارشد بچوں کی طرح ناراض ہوتے ہوئے اپنے آنسو پونچھ کر بولا۔ بلال کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا ۔ ۔ بس وہ دل ہی دل میں دعا کرتا رہا کہ اس کے مزدور دوست کا ایک اور خواب نہ ٹوٹ جائے۔ ۔ کہیں دیہاڑی نہ لگنے کی وجہ سے اسے حارث کو اسکول سے نکلوانا نہ پڑ جائے ۔ ۔ 
x-x-x-x-x-x-x ختم شدx-x-x-x-x-x-x  






0 comments:

Facebook Blogger Plugin: Bloggerized by AllBlogTools.com Enhanced by MyBloggerTricks.com

ایک تبصرہ شائع کریں