پیر، 27 جولائی، 2015

عادل نیوز - والہانہ عقیدت

عادل نیوز  - والہانہ عقیدت:

Funny_Pakistan_Urdu_News_Adil_News

(نوٹ: عادل نیوز پلیٹ فارم کافی عرصہ سے پوری ذمہ داری کے ساتھ ملک کی مایوس کن سیاسی صورتحال سے مزاح کھود کھود کر نکالتا آ رہا ہے اور آپ کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرتا آ رہا ہے۔ اگر آپ اپنے لیڈران سے اتنی ہی والہانہ عقیدت رکھتے ہیں جتنی کہ بالکل نہیں رکھنی چاہیے تو براہِ مہربانی عادل نیوز پڑھنے سے گریز کریں کیونکہ یہ آپ کو 'تیر' کی طرح چبھ سکتی ہے، 'بلے' کی طرح سر پر بج سکتی ہے اور 'شیر' کی طرح چیر پھاڑ کر سکتی ہے۔ واضح رہے کہ عادل نیوز مکمل طور پر ایک غیرجانبدار نیوز پلیٹ فارم ہے جیسا کہ ہمارے مایہ ناز رپورٹر رشید خبری نے  ایک شب اپنے پسندیدہ مشروب کی چار چسکیاں لینے کے بعد عادل نیوز کی شان میں فرمایا اور کیا ہی خوب فرمایا کہ:

تھوڑا 'برگر' تھوڑا 'پٹواری' تھوڑا منافق ہوں
میں آپ کے لیڈروں کے عین مطابق ہوں۔۔!!)
پاکستان میں ہفتہ سیاست کا سورج ہمیشہ کی طرح ایک عجیب و غریب نکڑ سے طلوع ہوا۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ انصاف خان صاحب گھر پر بیٹھے ٹی وی سے لطف اندوز ہو رہے تھے ۔ ۔ چونکہ ان دنوں دھرنوں کا کوئی پلان نہیں تھا، جلسوں کا شیڈول بھی کافی پرے کا تھا اور جوڈیشل کمیشن کو ٹھوس ثبوت فراہم کرنے کا کام ملتانی بابا کے ذمہ لگا رکھا تھا (جو انہوں نے بخوبی سرانجام دیا) ۔ ۔ اس لیے خان صاحب زیادہ تر وقت ٹاک شوز دیکھ کر ہی گزار رہے تھے۔ ابھی مشہور پروگرام 'بشیرے کے سچ' نصف تک ہی پہنچا تھا کہ بریکنگ نیوز نے بشیرے کو یکدم خاموش کروا دیا اور بریکنگ نیوز ایسی تھی جس نے خان صاحب کو چلانے پر مجبور کر دیا۔ نیوز میں تھا کہ ملکہ انصاف کی ڈگری جعلی نکل آئی ہے۔ یہ سننا تھا کہ خان صاحب کے پیروں تلے سے کنٹینر نکل گیا۔ گو کہ خبر سیاسی نکتہ نظر سے انتہائی معمولی تھی مگر انہیں صد فیصد یقین تھا کہ اس کے سیاسی اثرات انتہائی غیرمعمولی ہونگے۔ آپ نے فوراً ملکہ کو طلب کیا اور خوب کھری کھری سنائیں۔ اپنے مخصوص انداز میں خان صاحب نے ملکہ سے کہا "او میں کہتا ہوں خدا کی بندی آپ نے ڈگری لکھنے سے پہلے کوئی ریسرچ  بھی نہیں کی؟ او یہ تو جس بیہودہ سی یونیورسٹی کا نام آپ نے ڈال رکھا ہے یہاں تو جرنلزم کا وہ  ڈپارٹمنٹ ہی کوئی نہیں ۔ ۔ او یہ تو ایسا ہے جیسے کوئی بولے میں نے وفاق المدارس سے پیانو بجانے کا کورس کیا ہے ۔ ۔ آپ کو پتہ ہے اب کیا ہونا ہے؟؟" اور اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ ہم سب جانتے ہیں۔
سیاسی سورج ریاست انصاف خواہ سے ہوتا ہوا خواہ مخواہ ریاست ہائے میٹرو جا پہنچا جہاں اصل سورج بھی گہرے بادلوں کے پیچھے چھپا ہوا ملا۔ وزیرِ اعلی ریاست ہائے میٹرو، شوقین شریف نے میٹرو بنانے کے بعد چین کے سرکاری انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کو فاخرانہ انداز میں خط لکھ کر دعوت دی کہ وہ پاکستان آئیں اور ان کی 'کٹنگ دی ایج' تکنالوجی یعنی میٹرو دیکھ کر بتائیں کہ ان کے حساب سے یہ شاندار بسیں چلتی ہیں یا اڑتی ہیں؟ شوقین صاحب نے یہ خط خشک موسم میں لکھا تھا مگر بدقسمتی سے چینی نمائندے جب میٹرو دیکھنے پہنچے تو بارشوں کا آغاز ہو چکا تھا۔ چینیوں نے میٹرو اسٹیشنز کا بغور معائنہ کیا اور شوقین صاحب کو رپورٹ لکھ کر دی کہ "میٹرو پراجیکٹ واقعی اپنا طرز کا انوکھا اور شاندار ترین پراجیکٹ ہے۔ زمین پر اتنا پانی کھڑا کر کہ بحری آبدوزوں کو بس کی شکل دینا معمولی انسانوں کے بس کی بات نہیں۔ مگر ہم نے نوٹ کیا ہے کہ میٹرو آبدوزیں نہ چلے ہیں نہ اڑؑے ہیں ۔ ۔  یہ تو بہے ہیں؟؟"
چینی رپورٹ پر وزیرِ اعلی ریاست انصاف خواہ نڈھال خٹک اپنی نحیف سے ہنسی کئی روز تک ہنستے رہے۔ شوقین شریف بدلہ لینے کی غرض لیے ان سے ملاقات کیلئے روانہ ہوئے۔ لسی اور نسوار کے رسمی تبادلے بعد شوقین شریف نے طنزیہ انداز میں نڈھال خٹک سے کہا: "ہم نے تیرنے والی ہی سہی میٹرو تو بنائی ۔ ۔ ٹوٹے پھوٹے ہی صحیح ہائی وے تو بنائے ۔ ۔ ٹیڑھی میڑھی ہی صحیح پاک چین راہداری تو بنانی شروع کی ۔ ۔ آپ نے کیا کیا؟" اس پر نڈھال خٹک بھی طنزیہ مسکرائے اور شوقین شریف کا ہاتھ پکڑ کر انہیں کھڑکی طرف لے گئے ۔ ۔ "باہر دیکھو شوقین ۔ ۔ ہم نے ہر جگہ میگا ٹرانزٹ روٹ بچھایا ہے جو پوری ریاست انصاف خواہ کو جوڑتا ہے!" "کمال ہے ۔ ۔ مگر یہ روٹ ہے کہاں؟" شوقین شریف بیک وقت متاثر اور حیران ہوتے ہوئے باہر بغور جھانکنے لگے۔ "او بیوقوف  ۔ ۔ یہ میگا ٹرانزٹ روٹ ہیلی کاپٹروں کیلئے ہے ۔ ۔ جو چاہے ہوا میں اپنے ہیلی کاپٹر پر اِدھر سے اُدھر باآسانی جا سکتا ہے۔" نڈھال خٹک نے گردن اکڑا کر جواب دیا اور شوقین شریف سر ہلاتے رہ گئے۔
ناظرین یہی وہ والہانہ عقیدت ہے جو ہرگز نہیں ہونی چاہیے۔ یہ عقیدت ہمارے لیڈران کو اعتماد دیتی ہے کہ وہ کچھ بھی کر لیں (یا کچھ بھی نہ کریں) ان کے حمایتی اس میں سے کوئی نہ کوئی مثبت پہلو ضرور نکال لیں گے بلکہ ان کا دفاع بھی خود ہی کرتے پھرینگے۔ اپنی پسندیدہ جماعت کو سپورٹ کریں مگر اس پر کڑی نظر بھی رکھیں تاکہ وہ من مانیاں نہ کرتی پھرے ۔ ۔ آج ساری سیاسی جماعتوں کا مسئلہ یہی ہے کہ ان کا احتساب کرنے والا کوئی نہیں۔ ہر ایک اپنی ڈیڑھ انچ کی ریاست علیحدہ بنا کر عوام پر حکمرانی کر رہا ہے اور عوام بیحد مطمئن ہے ۔ ۔ ایک ریاست برسوں پہلے مرے ہوئے لیڈر کے نعرے لگا کر خوش ہے، ایک اس بات پر خوش ہے کہ ان ہی کے 100 روپے میں سے انکے حکمران کم از کم 1 روپیہ تو ان پر لگاتے ہیں، ایک اس بات پر خوش ہے کہ کبھی نہ کبھی انقلاب آجائے گا تب تک ساری غلطی اور ذمہ داری وفاقی حکومت کی ہے اور ایک ابھی تک یہی طے نہیں کر پایا کہ میرا اس دنیا میں کیا مقصد ہے۔ بہرحال ۔ ۔ واپس نیوز کی طرف آتے ہیں مگر آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ جس دوران جوڈیشل کمیشن میں ریاست انصاف خواہ اور ریاست ہائے میٹرو کے علم بردار اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے تھے اس دوران ان دونوں کے ووٹر سیلابی ریلوں میں بہتے رہے۔ مگر آفرین ہے ان لوگوں کی والہانہ عقیدت پر کہ بہتے ہوئے بھی اپنے لیڈران کیلئے پانی سے ہاتھ نکال نکال کر وکٹری کے نشان بناتے رہے اور مخالف لیڈران کو موردِ الزام ٹھہراتے رہے۔
ناظرین عادل نیوز کا وقت ختم ہوا چاہتا ہے۔ ۔ آخر میں کرانچی سے متعلق دو اہم خبروں سے آپ کو آگاہ کرتے چلیں۔ پہلی خبر یہ ہے کہ پیرِ لندن نے اپنی پارٹی تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور دوسری خبر یہ ہے کہ کرانچی میں گزشتہ کئی سالوں سے بارشوں کا رکا ہوا سلسلہ دوبارہ شروع ہوچکا ہے اور کرانچی شہر بھی باقی ملک کی طرح بارانِ رحمت سے کئی سالوں بعد کھل کر لطف اندوز ہو رہا ہے۔ (ان دونوں خبروں کے درمیان کوئی تعلق ظاہر کرنا عادل نیوز کا مقصد نہیں تھا ۔ ۔ اگر آپ کو کوئی رشتہ جڑتا محسوس ہوا تو یہ آپ کی ذاتی رائے ہو سکتی ہے ۔ ۔ جیسا کہ کہا گیا عادل نیوز غیر جانبدار نیوز پلیٹ فارم ہے!) 

(عادل نیوز کی پہلی ننھی منی سی یادگار قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں:  عادل نیوز: جرمن ہمارے؟؟

عادل نیوز کی نئی قسط کیسی لگی؟ کیا پڑھنا چاہینگے کیا نہیں پڑھنا چاہینگے؟ اپنی قیمتی آراء سے ضرور آگاہ کریں اور مزید مزاحیہ  تحریروں اور مختلف کہانیوں کیلئے جنہوں نے اب تک یہ مزیدار پیج لائیک نہیں کیا وہ ضرور لائیک کر لیں

fb.com/farazadilpen

اگلی قسط کے ساتھ جلد ملاقات ہوگی تب کیلئے اجازت۔

کیمرہ مین رشید خبری کے ساتھ ۔ ۔ فراز عادل، پاکستان!

؎ فراز عادل
Collage Picture Sources:
https://pbs.twimg.com/media/CIP9bR6UwAEwgps.jpg
http://adventofdeception.com/wp-content/uploads/2010/08/pakistan-flood.jpg
http://cache.pakistantoday.com.pk/arrest-responsibles-of-quetta-blast-immediately-demands-altaf-hussain-9186.jpg



0 comments:

Facebook Blogger Plugin: Bloggerized by AllBlogTools.com Enhanced by MyBloggerTricks.com

ایک تبصرہ شائع کریں