اسلامی عبادات کے حیرت انگیز فوائد (پہلی قسط)
(انسان
کے جسم میں کون کون سی غیرمرئی قوتیں ہوتی ہیں؟ ان کی حقیقت کیا ہے؟ کیا ان سے
بیماریوں کا علاج ممکن ہے؟ اسلامی عبادات سے انسانی جسم کو کیسے کیسے حیرت انگیز
اور ناقابلِ یقین فوائد حاصل ہوتے ہیں؟ یہ سب اور بہت کچھ پڑھیے 'اسلامی عبادات کے
حیرت انگیز جسمانی فوائد' میں۔ ۔ ایک
منفرد اور انوکھا موضوع جس کے زیرِ بحث زاویوں پر اس پہلے کبھی کوئی تحقیق نہیں کی
گئی)
فی الوقت دنیا کا سب سے مشہور طبی مکتبہ فکر مغربی طب یا ویسٹرن میڈیسن ہے۔ مغربی
طب چونکہ جدید سائنسی علوم پر مبنی ہے اس لیے یہ بھی صرف مادی عوامل پر ہی بحث
کرتا نظر آتا ہے یعنی
سائنس ہی کی طرح مغربی طب بھی انہی چیزوں پر اعتقاد رکھتا ہے جنہیں انسان دیکھ سکتا ہو یعنی کہ کھال، بال، خون، ہڈیاں، گوشت وغیرہ چونکہ ہم دیکھ سکتے ہیں اس لیے بس وہی سائنس کیلئے حقیقت کا درجہ رکھتے ہیں جبکہ روح چونکہ غیر مرئی شے ہے اس لیے سائنس اس پر یقین نہیں رکھتی۔ البتہ بحیثیت مسلمان ہم روح کی حقیقت اچھی طرح جانتے ہیں۔ گویا سائنسی علم پتھر پر لکیر نہیں نہ ہی اسے دنیا کا اکلوتا علم سمجھا جا سکتا ہے بلکہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے عطا کردہ بہت سے علوم میں سے ایک علم ہے۔
سائنس ہی کی طرح مغربی طب بھی انہی چیزوں پر اعتقاد رکھتا ہے جنہیں انسان دیکھ سکتا ہو یعنی کہ کھال، بال، خون، ہڈیاں، گوشت وغیرہ چونکہ ہم دیکھ سکتے ہیں اس لیے بس وہی سائنس کیلئے حقیقت کا درجہ رکھتے ہیں جبکہ روح چونکہ غیر مرئی شے ہے اس لیے سائنس اس پر یقین نہیں رکھتی۔ البتہ بحیثیت مسلمان ہم روح کی حقیقت اچھی طرح جانتے ہیں۔ گویا سائنسی علم پتھر پر لکیر نہیں نہ ہی اسے دنیا کا اکلوتا علم سمجھا جا سکتا ہے بلکہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے عطا کردہ بہت سے علوم میں سے ایک علم ہے۔
جس طرح مغربی طب اپنے مشاہدات کی روشنی
میں انسانی جسم کو پرکھتا اور علاج کرتا ہے اسی طرح چینی طب بھی کئی ہزار سالوں سے
انسانی جسم کو اپنے علم کے حساب سے جانچتا اور ٹھیک کرتا آیا ہے۔ یہ بات بھی شاید
کسی سے پوشیدہ نہ ہو کہ چینی طب مغربی طب سے کئی ہزار سال پرانا ہے۔ گویا کئی ہزار
سالوں سے چینی طب بھی انسانی جسم میں پیدا ہونے والی خلافِ قاعدہ تبدیلیوں کو
سدھارتا آ رہا ہے۔ ہمارے سلسلے کا اصل موضوع نہ تو مغربی طب ہے نہ چینی طب بلکہ زیرِ
بحث موضوع 'اسلامی عبادات سے حاصل ہونے والے حیرت انگیز جسمانی فوائد' ہے مگر
چونکہ میں نے ان فوائد کو انہی علوم کی روشنی میں عبادات سے کشید کیا ہے اس لیے
ضروری ہے کہ پہلے آپ ان علوم کے بنیادی نظریہ اور اصولوں سے کچھ حد تک آشنا ہو
جائیں۔
چینی طب انسانی جسم میں پیدا ہونے والی بیماریوں کو حیاتی
قوت کی کمی یا رکاوٹ سے منسوب کرتا ہے۔ اس حیاتی قوت کو چینی زبان میں
"چی" کہا جاتا ہے جس کا انگریزی ترجمہ "لائف فورس" ہے۔ یہاں
یہ باور کرانا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ حیاتی قوت کے اس نظریے پر صرف چینی طب
ہی قیاس نہیں کرتی بلکہ جاپانی، کورین، ہندوستانی اور دیگر کئی تہذیبیں بھی اس پر
یقین رکھتی ہیں اور ان کے متعلقہ طبی مکتبہ فکر بھی اس ہی قوت کو بحال کر کہ علاج
کرتے ہیں۔ اس قوت کو جاپانی میں "کی" اور سنسکرت میں "پّرانا"
یا "پرانا شکتی" کہا جاتا ہے۔ ویسے تو اس 'کی انرجی' کی تعریف پر کئی
کتابیں لکھی جا سکتی ہیں لیکن اس کے کچھ چیدہ چیدہ نکات نکالے جائیں تو سب سے پہلے
اس 'کی انرجی' کی اقسام پر بحث کی جا سکتی ہے۔ اس کی 3 بڑی اقسام ہیں:
1) پری-نیٹل انرجی:
جب مرد و زن کے تولیدی خلیات کا ملاپ ہوتا
ہے تو مادی اشیاء کے ساتھ ساتھ ان دونوں خلیات کی انرجی بھی ملتی ہے اور ایک نئی
انرجی وجود میں آتی ہے۔ اس انرجی کو 'پری-نیٹل انرجی' (قبل از پیدائش انرجی) کہا
جاتا ہے۔ یہ انرجی نومولود کے ہر اہم عضو میں محفوظ ہوجاتی ہے یا یوں کہا جا سکتا
ہے کہ ہر اہم عضو کی اپنی پری-نیٹل انرجی ہوتی ہے۔ چونکہ یہ وراثتی انرجی ہے اس
لیے یہ انرجی کتنی طاقتور ہے اس کا انحصار ماں باپ کی اندرونی صحت یا ان کے اجسام
میں موجود انرجی کی مقدار اور معیار پر ہوتا ہے۔ اگر ماں یا باپ میں سے کوئی ایک
یا دونوں ہی عمر رسیدہ ہیں، بیمار ہیں یا کسی اور وجہ سے ان کی اندرونی انرجی
کمزور ہے تو بچے کی انرجی بھی کمزور ہوگی۔ اس انرجی کے کمزور ہونے کی وجہ سے بچے
میں بہت سی دماغی و جسمانی خامیاں ہو سکتی ہیں، بچہ دماغی و جسمانی طور پر کمزور
ہو سکتا ہے اور ایسا بچہ زندگی میں بار بار مختلف بیماریوں کا شکار بنتا ہے۔ الغرض
اگر کسی کی یہ پیدائشی انرجی ہی کمزور ہو تو اس کا معیارِ زندگی بیحد گرا ہوا ہوتا
ہے (ذہنی و جسمانی صلاحیتوں کے اعتبار سے)۔ آج ہم دیکھ سکتے ہیں 100 میں سے 99 بچے
کمزور اور لاغر پیدا ہوتے ہیں، بیماریاں کثرت سے ان چمٹتی ہیں، بہت سے بچے ذہنی
طور پر بھی کمزور ہوتے ہیں۔ ایسے بچے بڑے ہو کر ہماری جنریشن سے زیادہ ڈپریشن،
احساس کمتری اور بیماریوں کا شکار ہونگے۔
اس انرجی کو بڑھانا ایک عام انسان کیلئے تقریباً ناممکن ہے کہ اس کے لیے اس موضوع
پر درست اور گہری معلومات، کڑی مشقیں اور محنت درکار ہے۔ اس لیے انرجی کی مشقوں
میں یہی سکھایا جاتا ہے کہ ہم کیسے اس انرجی کو بہت احتیاط سے تھوڑا تھوڑا استعمال
کریں کیونکہ چینی طب کے مطابق جب یہ انرجی ختم ہوجائے تو موت واقع ہوجاتی ہے۔
ہمارے دین میں جوانی کی شادی کی جو بیحد تاکید کی گئی ہے، تو آج آپ سب کو اس کا
ایک اور انتہائی اہم فائدہ معلوم ہوا کہ بڑی عمر میں شادی کیسے ایک نئے آنے والے
فرد کی پوری زندگی تباہ کر سکتی ہے۔
2)پوسٹ-نیٹل انرجی:
پوسٹ نیٹل انرجی یا بعد از پیدائش انرجی وہ انرجی ہے جو انسان ہوا اور خوراک سے
حاصل کرتا ہے۔ جی ہاں، شاید یہ بات آپ میں
سے بیشتر کیلئے نئی ہو مگر ہمارے پھیپڑوں کا
ایک اور مقصد ہوا سے انرجی کشید کرنا بھی ہے۔ اسی طرح خوراک سے بھی یہ 'کی'
انرجی حاصل ہوتی ہے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب ہمارے جسمانی اعضاء خودکار طرز پر ہوا
اور خوراک میں سے انرجی کشید کرنے پر معمور ہیں تو ہمارا معیارِ زندگی وقت گزرنے
کے ساتھ ساتھ بہتر ہونے کے بجائے گرتا کیوں چلا جاتا ہے؟ اس کے جواب میں کئی ضخیم
کتابیں تحریر کی جا سکتی ہیں مگر مختصراً سمیٹا جائے تو اتنا بتانا کافی ہوگا کہ
انسان جسم اور دماغ کی مخصوص کیفیات میں ہی ہوا سے انرجی کشید کر پاتا ہے۔ جب
ہمارا ذہن مختلف پریشانیوں میں گھرا ہوا ہو، خیالات منتشر ہوں اور ہم اپنی دماغی
قوتیں بیک وقت بے شمار گھتیاں سلجھانے میں صرف کر رہے ہوں تو ایسی صورت میں ہم
انرجی حاصل کرنے کے بجائے اسے تباہ کر رہے ہوتے ہیں۔ اسی طرح جب ہم خالص اور قدرتی
غذا کے بجائے اوٹ پٹانگ اشیا سے پیٹ بھرتے ہیں تو غذا سے حاصل ہونے والی انرجی کا
راستہ بھی بند ہوجاتا ہے۔ اب آپ خود حساب لگا لیجئے کے دن میں کتنے لمحات ایسے
ہوتے ہیں جن میں ہمارا ذہن مکمل طور سوچوں اور پریشانیوں سے عاری اور پرسکون ہو؟
شاید ایک بھی نہیں!
ایسی صورت میں جب ہم ہوا اور غذا دونوں ہی سے انرجی حاصل نہیں کر پا رہے ہوتے تو
نیند ہی انرجی حاصل کرنے کا واحد ذریعہ رہ جاتا ہے جس میں انسان سوچوں سے آزاد
ہوتا ہے، جسم ڈھیلا ڈھالا چھوڑا ہوا ہوتا اور سانس دھیرے دھیرے اور سینے کے بجائے
پیٹ سے لیا جا رہا ہوتا ہے (ہوا سے انرجی حاصل کرنے کیلئے یہ 3 شرائط سب سے اہم
ہیں، اس سلسلے میں آگے چل کر آپ کو انشاء اللہ یہ طریقہ تفصیل سے سکھایا جائے گا)۔
مگر صرف نیند ہماری انرجی ضروریات کو پورا نہیں کر سکتی خاص کر جب ہمارا رہن سہن، ذہنی
و قلبی اضطراب، ماحول کی آلودگی، آلودہ غذائیں وغیرہ 24 گھنٹے نہ صرف انرجی خرچ کر
رہی ہوں بلکہ تباہ بھی کر رہی ہوں۔ اب جب پوسٹ-نیٹل انرجی انسانی جسم کیلئے ناکافی
ہوتی ہے تو پھر کیا ہوتا ہے؟ سن کر آپ کے ہاتھوں کے طوطے اڑ جائینگے۔ جب پوسٹ نیٹل
انرجی ناکافی ہوتی ہے تو جسم ضروریات پوری کرنے کیلئے پری-نیٹل انرجی خرچ کرنی
شروع کردیتا ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ یہ جسم اور ہر عضو کی مخصوص
انرجی ہے جسے دوبارہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ جب ہم اسے بے دردی سے خرچ کرنے لگ
جاتے ہیں تو ہمارے ہر ہر عضو کی کارکردگی متاثر ہوتی چلی جاتی ہے، بیماریاں کثرت
سے حملے کرنے لگتی ہیں اور بڑھاپا جلد طاری ہوجاتا ہے۔ آپ نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ
اب لوگ جلد بوڑھے ہونے لگے ہیں، چالیس پینتالیس سال کی عمر میں جسمانی کارکردگی
ساٹھ سالہ بوڑھوں سے بھی بدتر ہوجاتی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہی عوامل کارفرما ہیں۔
3) جِنگ:
اس انرجی کی تیسری قسم 'جِنگ' ہے (دھیان رہے کہ ج پر زبر نہیں زیر ہے)۔ یہ بھی 'کی
یا چی' انرجی کی ہی ایک قسم ہے مگر اسے انرجی کی خالص اور بھرپور قسم کہا جا سکتا
ہے۔ جب آپ کے جسم میں 'کی انرجی' بالکل خالص اور زیادہ مقدار میں ہو تو یہ انرجی
ایک دوسرے سے جڑ کر انرجی کے بڑے جتھے بنا لیتی ہے، اسی کو جنگ کہا جاتا ہے۔ اسے
حاصل کرنے کیلئے انرجی بڑھانے کی بہت سی مشقیں کی جاتی ہیں۔ جب 'کی انرجی' 'جنگ'
کی شکل اختیار کر لیتی ہے تو اسے اپنے جسم سے دوسروں کے جسم کے میں بھی منتقل کیا
جا سکتا ہے، خواہ علاج کی غرض سے کیا جائے یا نقصان پہنچانے کی غرض سے۔ آپ نے اکثر
چینی فلموں میں دیکھا ہوگا کہ نوجوان ہیرو سخت اور تیز جسمانی مشقوں میں مشغول
ہوتا ہے جبکہ اس کا استاد پرسکون قسم کی رقص نما مشقیں دھیرے دھیرے کر رہا ہوتا ہے۔
درحقیقت نوجوان کو 'کنگ فو' کرتا دکھایا جا رہا ہوتا ہے اور استاد کو 'تائی چی'۔
آپ میں سے بہت سے لوگوں نے شاید تائی-چی کا نام سنا ہو۔ یہ ایک قسم کا مارشل آرٹ
ہے جو 'کی انرجی' بنانے اور پھر اسے استعمال کرنے کے گن سکھاتا ہے۔ یہاں ایک اور
بات واضح کرتا چلوں کہ بہت ساری فلموں میں یہ دکھایا جاتا ہے کہ اسی اندرونی قوت
کی وجہ سے کوئی کنگ فو ماسٹر اپنے سر پر اینٹیں یا ڈنڈے وغیرہ توڑ رہا ہے یا کوئی
اپنے جسم پر گاڑیاں گزار رہا ہے۔ یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے جو چینی ماسٹروں نے
پوری دنیا میں پھیلائی ہوئی ہے۔ میں نے آٹھ سال باقاعدگی کے ساتھ دیسی اور ولائتی
اساتذہ سے مختلف مارشل آرٹس بھی سیکھے اور اپنے تجربے کی بنیاد پر میں پورے وثوق
سے آپ کو بتا سکتا ہوں کہ یہ محض شعبدہ بازی ہے اور اس کا تعلق جسمانی مشقوں سے
ہے، اندرونی انرجی سے اس کا تعلق نا ہونے کے برابر ہے۔ جو ماسٹر اپنے شاگرد کے سر
پر ڈنڈا توڑنے کا مظاہر کر رہا ہوتا ہے یقین جانیے کہ اگر وہی ماسٹر آپ کے سر پر
بھی ویسے ہی ڈنڈا مارے تو ڈنڈا ہی ٹوٹے گا، آپ کا سر نہیں، کیونکہ کمال اس کے
مارنے کے انداز میں ہے اس کے شاگرد کے سر میں نہیں۔ اسی طرح بدقسمتی سے تائی چی کا
اصل علم بھی دنیا میں بہت کم اساتذہ کے پاس ہے۔
پہلی قسط سترہ سو الفاظ سے تجاوز کر چکی ہے اس لیے اس کا یہیں اختتام کرنا مناسب
معلوم ہوتا ہے۔ اگلی قسط میں ہم انشاء اللہ جانینگے کہ یہ انرجی جسم میں کس طرح
دوڑتی ہے، کن مقامات سے گزرتی ہے، کن مقامات پر اس کا راستہ رک جانے سے کونسی
بیماریاں پھیلتی ہیں اور روزہ رکھنے سے اس انرجی پر کیا فرق پڑتا ہے۔
اس حیرت انگیز اور انوکھی معلومات کو دوسروں تک بھی پہنچائیے اور اگلی قسط کیلئے یہاں کلک کریں۔ شکریہ!
؎ فراز عادل

0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں