جمعہ، 24 جولائی، 2015

نامعلوم فاختہ:

:نامعلوم فاختہ
Funny Urdu Stories Every Week!



  Dove  صابن کی تشہیری کیمپین کیلئے ہم اپنی پوری ٹیم کے ساتھ پاکستان آئے ۔ ۔یہاں ہم نے اپنی ماڈل کے ایک سائیڈ پر Dove لگایا اور ایک سائیڈ پر لاڈو صابن  ۔ ۔ ماڈل کا منہ دھلوانے کیلئے ہم نے نل کھولا ہی تھا کہ پانی آنا بند ہوگیا ۔ ۔ ہمارے ساتھی نے موٹر چلانے کیلئے پلگ لگایا تو وولٹیج کی کمی کی وجہ سے موٹر جل گئی ۔ ۔ تھوڑی ہی دیر میں ایک دھماکے کی آواز آئی اور پتہ لگا کہ علاقے کا فیڈر ٹرپ ہوگیا ہے ۔ ۔  ہم ابھی موم بتی ڈھونڈ رہے تھے کہ ماڈل نے چیخیں مارنی شروع کردیں ۔ ۔ اس کی آنکھ میں صابن گھس گیا تھا ۔ ۔ ہم اسے لے کر باہر بھاگے اور گاڑی میں بٹھا کر ہسپتال لے جانے لگے  ۔ ۔ ابھی مین روڈ پر نکلنے ہی لگے تھے کہ دو گروپوں کے درمیان تصادم ہوگیا اور گولی ہمارے ساتھی کو لگ گئی

جس کی وجہ سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا ۔ ۔ اب ہم میں سے صرف میں اور میری ماڈل بچی تھی ۔ ۔ میں نے اپنے ایکسپائر شدہ ساتھی کو گاڑی سے باہر لڑھکایا اور ڈرائیو کرتی ہوئی ہسپتال لے گئی ۔ ۔  ایمرجنسی سیکشن میں جا کر ڈاکٹر کو پھولی ہوئی سانسوں سے سارا ماجرا سنایا اور فوری طور پر ماڈل کی آنکھ ٹریٹ کرنے کا کہا ۔ ۔ ڈاکٹر نے آرام سے میری بات سنی پھر تسلی کے ساتھ کاغذ پر کچھ لکھنے بیٹھ گئے ۔ ۔ دس منٹ کے بعد فارغ ہوئے اور کاغذ مجھے پکڑا دیا  ۔ ۔ اس پر جگر کے ٹیسٹوں سے لیکر ٹخنوں کے ایکسرے تک سب ٹیسٹ درج تھے ۔ ۔ میں نے حیران ہو کر ڈاکٹر سے پوچھا کہ آنکھ کے علاج کیلئے اس سب کی کیا ضرورت ہے ۔ ۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے ہسپتال کی یہی پالیسی ہے ۔ ۔ میں مجبوراً اپنی ماڈل کو لیکر لیبارٹری گئی اور سارے ٹیسٹ کروائے ۔ ۔ اتنے میں ماڈل کی آنکھ سوج کر گول گپے کی طرح ہوچکی تھی ۔ ۔ ٹیسٹ کروانے کے بعد میں نے پہلے اے-ٹی-ایم کا رخ کیا کیونکہ میرے سارے پیسے ختم ہو چکے تھے ۔ ۔ پیسے نکال کر باہر آئی تو دو نوجوان پہلے سے میرے منتظر تھے ۔ ۔ انہوں نے مجھے گن دکھا کر سارے پیسے لیے اور رفو چکر ہو گئے ۔ ۔ میں ماڈل کو لیکر ہسپتال بھاگی اور ڈاکٹر سے گزارش کی کہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں آپ پلیز اس کی آنکھ کا جلد کچھ کردیں پیسے بعد میں ہوجائینگے ۔ ۔ ڈاکٹر مجھے گھورتا ہوا ماڈل کو اندر لے گیا ۔ ۔ کچھ دیر تک آپریشن تھیٹر سے میری ماڈل کی ہولناک چیخیں سنائی دیتی رہیں ۔ ۔ پھر ڈاکٹر باہر نکلا اور ایک چیز میری مٹھی میں دبا کر بولا ۔ ۔ بی بی بغیر پیسوں کے ہم یہی کر سکتے تھے ۔ ۔ میں نے مٹھی کھولی تو اندر ماڈل کی آںکھ تھی ۔ ۔ میں نے زوردار چیخ ماری اور بدحواس ہو کر باہر بھاگی ۔ ۔ باہر ایک گاڑی والے سے لفٹ مانگی اور مجھے میرے ہیڈ آفس چھوڑنے کی درخواست کی ۔ ۔ مگر وہ مجھے اپنے ساتھ ایک عجیب سی جگہ لے گیا ۔ ۔ ۔ مجھے کافی دن وہاں رہنا پڑا ۔ ۔ آخر میری کمپنی نے 10 لاکھ روپے تاوان دیا تب جا کر میں چھوٹی ۔ ۔ 



ہماری پرامن سی فاختہ  یہاں آ کر اتنی شدت پسند کیوں ہوگئی  ۔ ۔ یہ ایک معمہ ہے جو ابھی تک حل نہیں ہوسکا ۔ ۔ مگر صابن لگانا اتنا خطرناک 
ہوسکتا ہے ہمارے فادر نے بھی کبھی نہیں سوچا تھا ۔ ۔ میری توبہ جو آئندہ کسی کو Doveلگاؤں

؎ فراز عادل



0 comments:

Facebook Blogger Plugin: Bloggerized by AllBlogTools.com Enhanced by MyBloggerTricks.com

ایک تبصرہ شائع کریں