ناظرین اب کی بار
تو میں قسم اٹھا کر کہ سکتا ہوں کہ عادل نیوز کی نئی قسط میں تاخیر رشید خبری کی
وجہ سے ہی ہوئی۔ نئی قسط کیلئے رپورٹنگ پر ان کا انتظار کرتے کرتے جب کئی گھنٹے
گزر گئے تو میں نے ان کے گھر پر فون کیا۔ معلوم ہوا کہ موصوف ایک نئی خبر کا سن کر
بھاگے بھاگے معلومات لینے گئے تھے اور جب واپس آئے تو خود کو کمرے میں بند کر لیا۔
کچھ دیر تک کمرے سے گدھے کے رینکنے کی آوازیں آتی رہیں تو گھر والے سمجھے کہ شاید
حسبِ معمول کوئی مزاحیہ فلم لگا کر ہنسنے میں مصروف ہیں۔ مگر تھوڑی دیر بعد جب ریں
ریں میں بھوں بھوں کی آمیزش ہوئی اور کرب جھلکنے لگا تو دروازہ بجا کر خیریت
دریافت کی گئی۔ اندر سے جواب آیا کہ بس اب اس کمرے سے ان کی لاش ہی نکلے گی۔ رشید
خبری کی خبر سن کر میرے اوسان خطا ہو گئے۔ موت تو بہرحال حق ہے اور رشید خبری کے
مرنے سے کسی کو بھلا کیا فرق پڑ سکتا تھا کیونکہ ان کا تعلق نہ تو فرانس سے ہے نہ
امریکہ سے مگر عادل نیوز کو کافی بڑا دھچکا لگ سکتا تھا اور میں سب کچھ برداشت کر
سکتا ہوں مگر لوگوں میں مسکراہٹیں بانٹنے والی اس عادل نیوز کی راہ میں کوئی رکاوٹ
برداشت نہیں کر سکتا۔ سو میں نے اسی وقت دوڑ لگائی، چار چار سیڑھیاں ایک جست میں
پھلانگتا گھر سے نیچے اترا، کمپاؤنڈ کی پارکنگ کی طرف رخ کیا، گاڑی سٹارٹ کی اور
جب دیکھا کہ پڑوس کے شبیر انکل بھی پیچھے پیچھے بھاگے چلے آتے ہیں تو فوراً روڈ پر
نکل آیا اور رکشہ پکڑ کر رشید خبری کے ہاں روانہ ہو گیا۔ "کمبخت چور اچکا
کہیں کا جب دیکھو نقلی چابیوں سے میری گاڑی اسٹارٹ کر کے بھاگ جاتا ہے بدبخت ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔" دور تک شبیر انکل کی مشفقانہ صدائیں گونجتی رہیں۔
پیر، 30 نومبر، 2015
ہفتہ، 21 نومبر، 2015
ملا کا چاند
لیبارٹری میں پروفیسر
حامد ہمیں مینڈک کے پھیپڑوں کے خلیات کا نظارہ خورد بین سے باری باری کروا رہے تھے
اور ہم ابکائیاں لے لے کر نظارے سے محظوظ ہو رہے تھے۔ ملا کی باری آئی (تقریباً ہر
کلاس میں ایک داڑھی والا لڑکا ہوتا ہے جس کا نام ملا ہی پڑ جاتا ہے) اور عادت کے
مطابق اس نے خوب تسلی سے خلیات دیکھے اور مستقل سبحان اللہ کا ورد کرتا رہا۔ اس پر
ہمارے روشن خیال پروفیسر کا چہرہ کچھ مزید ترچھا سا ہوتا چلا گیا اور نا پسندیدگی
کے تاثرات چہرے پر بد نما پھوڑوں کی طرح ابھر آئے۔منگل، 10 نومبر، 2015
اقبال ڈے
ایک پکے سچے پاکستانی اوراوپر سے کچھ حد تک لکھاری ہونے کے ناطے
میرا فرض عین ہے کہ میں اپنے پڑھنے والوں کو علامہ اقبالؒ کی شاعری پڑھنے اور سمجھنے
کی تلقین کروں۔ اقبال نے جس قدر سادگی اور سلاست سے ایک اسلامی معاشرے کے افراد کی
تربیت کی ہے یہ ہنر کسی اور شاعر کے نصیب میں نہیں آیا۔ آپ کا ایک شعر ملاحظہ ہو:
پیر، 2 نومبر، 2015
جمعرات، 29 اکتوبر، 2015
میری ناک
لوگ اور موسم دیکھتے ہی دیکھتے بدل جاتے ہیں۔ فرق صرف اتنا
ہے کہ موسم بدلنے کا ہمیں انتظار رہتا ہے اور لوگوں کے بدلنے کا دھڑکا (اور بھی
فرق ہونگے، ہمیں صرف یہی لگتا ہے، کیوں؟ کیونکہ ہماری مرضی!) سو دیکھتے ہی دیکھتے
موسم نے کروٹ بدلی اور سورج کی تپش کو خود پر سے جھٹک ڈالا۔ ایک ہی دن میں سردی نے
اپنی دھماکے دار اینٹری دے ماری اور جسم نے اپنی بیٹری ڈاؤن کر کہ پرزور احتجاج
کرنا شروع کر دیا۔ سستی، کاہلی، زکام، ہلکا سا بخار، خراب گلہ وغیرہ موسمِ سرما کی
خصوصی سوغات ہیں سو وہ اس بار بھی دل کھول کر اپنے ساتھ لایا۔
کل ہی کی بات ہے کہ ہم دن بھر کے 'آرام' سے تھکے ہارے بستر
پر سونے کیلئے لیٹے تو اچانک کہیں سے سیٹیاں بجنے کی آواز آنے لگی۔
جمعہ، 2 اکتوبر، 2015
عادل نیوز: زار و قطار
ناظرین انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور بلآخر ہم حاظر ہو
رہے ہیں آپ سب کی پسندیدہ و برگزیدہ عادل نیوز کی نئی قسط کے ساتھ۔
ناظرین تاخیر کی وجہ ہر بار کی طرح ہمارے اکلوتے جانباز
رپورٹر/کیمرہ مین/صحافی 'رشید خبری' ہی ٹھہرے جو کہ عیدالفطر کے بعد ہی حج کے مقدس
فریضے پر روانہ ہو چکے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ حج گناہوں سے پاک کر دیتا ہے اور ان
کی معصوم سی زندگی میں کوئی قابلِ ذکر گناہ ہی نہیں اسلئے وہ حج سے قبل ایک دو
مہینے دبئی کے پوش علاقوں میں گزارنا چاہتے ہیں۔
مدینہ منورہ میں داخل ہونے پر بھی ہمارے رشید خبری کو سخت
مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب محافظین نے ان کی شکل دیکھتے ہی 'مجوسی مجوسی' کا شور
مچا دیا اور انہیں اٹھا کر وہاں سے باہر پھینک دیا گیا۔ خوشقسمتی سے اسی وقت وہاں
ایک
پیر، 14 ستمبر، 2015
جدید پاکستانی فلم بنانے کی آسان ترکیب
دوستو آج میں آپ کو بتاؤنگا ایک شدھ (خالص) پاکستانی فلم
بنانے کی آسان ترکیب جس پر عمل کر کہ آپ ایک کامیاب فلم بنا پائینگے اور اپنے سچے
اور محبِ وطن پاکستانی ہونے کا ثبوت دے پائینگے۔
(نوٹ: ترکیب کی حرف بہ حرف پیروی کریں ورنہ پاکستانی کے
بجائے تامل فلم بھی بن سکتی ہے اور اس کا ذمہ دار میں نہیں ہونگا)
1۔ سب سے پہلے مرحلے میں اپنا مستند شجرہ اور نسب و حسب
برآمد کریں۔
جمعہ، 4 ستمبر، 2015
روم کے ساحل پر
شام کے جنگی حالات سے زندگی کی آس میں نکلنے والے اس معصوم
بچے کی لاش نے کروڑوں آنکھیں پرنم کر دیں اور کروڑوں دلوں کو تڑپا دیا۔ میڈیا اور
سوشل میڈیا پر اس تصویر کو دیکھنے کے بعد آج یورپ میں بھرپور تحریک چل پڑی ہے جس
میں عوام سے لیکر خواص تک سب اپنے ممالک پر زور ڈال رہے ہیں کہ شامی مہاجرین کو
پناہ دی جائے ۔ ۔ ۔ ہو سکتا ہے کہ یورپ راستے کھول بھی دے ۔ ۔ ۔ مگر مجھے معلوم ہے
کہ بشار الاسد کے ظلم و بربریت میں کوئی کمی نہیں آئے گی ۔ ۔ ۔ مجھے معلوم ہے کہ
داعش کا گردنیں کاٹنا اسی طرح چلتا رہے گا ۔ ۔ ۔ مجھے معلوم ہے کہ عرب دنیا کے دروازے اب بھی
"امت" کے لاچاروں پر بند ہی رہینگے کہ ان دروازوں سے سونے کی بنی
فراریاں تو آ سکتی ہیں مگر محمد عربی (ﷺ) کی امت کے بچے نہیں۔ ۔ ۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ ہم بھی کچھ نہیں
کرینگے کیونکہ ہمارے اپنے مسائل بہت ہیں ۔ ۔ ۔ مگر مجھے ایک بات اور بھی معلوم ہے
۔ ۔ ۔ مجھے معلوم ہے کہ ۔ ۔ ۔ جس نے بچوں
کو اپنی جنت کا پھول کہا ہے ۔ ۔ ۔ جو 70
ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا ہے ۔ ۔ ۔ اس نے بھی تو یہ سب دیکھا ہوگا۔ ۔ ۔ اس بچے
کی مجبوری دیکھی ہوگی ۔ ۔ ہماری بے حسی
بھی دیکھی ہوگی ۔ ۔ ۔
سنو ۔ ۔ ۔ آج خالی ہاتھ
نہیں جانا ۔ ۔ ۔
کچھ کھلونے لے لو ۔ ۔
اور کچھ میٹھا بھی ۔ ۔ ۔
سنو ۔ ۔ ۔ وہ ڈرا ہوا ہوگا ۔ ۔ ۔
اسے ہرگز ڈرانا مت ۔ ۔ ۔
اسے لہروں نے مارا ہے۔ ۔ ۔
اور پانی نے گھسیٹا بھی ۔ ۔ ۔
کچھ کھلونے لے لو ۔ ۔
اور کچھ میٹھا بھی ۔ ۔ ۔
سنو ۔ ۔ ۔ وہ ڈرا ہوا ہوگا ۔ ۔ ۔
اسے ہرگز ڈرانا مت ۔ ۔ ۔
اسے لہروں نے مارا ہے۔ ۔ ۔
اور پانی نے گھسیٹا بھی ۔ ۔ ۔
سنو ۔ ۔ ۔ بہت آرام سے لانا ۔ ۔ ۔
وہ بیحد تھک چکا ہوگا ۔ ۔ ۔
کئی پتھروں سے ٹکرا کر۔ ۔ ۔
جب زخمی ہوا تھا وہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
بس چھوڑو یہ قصہ اب ۔ ۔ ۔
ذرا جلدی سے جانا تم
اسے پیار سے لانا تم ۔ ۔ ۔
وہ بیحد تھک چکا ہوگا ۔ ۔ ۔
کئی پتھروں سے ٹکرا کر۔ ۔ ۔
جب زخمی ہوا تھا وہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
بس چھوڑو یہ قصہ اب ۔ ۔ ۔
ذرا جلدی سے جانا تم
اسے پیار سے لانا تم ۔ ۔ ۔
سنو ۔ ۔ ۔ دل مضبوط ہی رکھنا ۔ ۔ ۔
بڑی مشکل یہ گھڑی ہے ۔ ۔ ۔
سنو ۔ ۔ ۔ روم کے ساحل پر ۔ ۔ ۔ ۔ ایک لاش پڑی ہے ۔ ۔ ۔!!
سنو ۔ ۔ ۔ روم کے ساحل پر ۔ ۔ ۔ ۔ ایک لاش پڑی ہے ۔ ۔ ۔!!
؎ فراز عادل
پیر، 31 اگست، 2015
جنم آف دی لیجنڈ
سکندرِ اعظم نے آدھی دنیا فتح کرنے کے بعد اپنے لاؤ لشکر کے
ساتھ ہند کے اطراف میں پڑاؤ ڈالا تو اپنی بے تحاشہ پھیلی ہوئی سلطنت کا سوچ کر اس
کے دل میں تفخر کا لاوا امڈ آیا۔ نشہ غرور میں اس نے اپنے سب سے بہترین نجومیوں
اور کاہنوں کو فوری طور پر طلب کیا اور کہا:
"زمین کے اس طول و عرض میں مجھ جیسا عظیم فاتح کسی نے
نہ دیکھا ۔ ۔ ۔ انسان کی تاریخ مجھ جیسے عظیم فاتح کا مماثل ظاہر کرنے سے قاصر ہے
۔ ۔ ۔ مگر میں جاننا چاہتا ہوں کہ کیا مستقبل میں کوئی ایسا مردِ آزما نظر آتا ہے
جو میری فتوحات کے اس انبار کو معمولی کر دکھائے؟"
خیمہ دربار میں سناٹا چھا گیا ۔ ۔ ۔
منگل، 11 اگست، 2015
میرا پاکستان کہاں گیا۔۔۔!!؟؟
میرا پاکستان کہاں گیا۔۔۔!!؟؟
(یومِ آزادی اسپیشل ۔ ۔ دل کو چھو جانے والی کہانی۔ مکمل ضرور پڑھیں!)
بابر نائی کی دکان پر کیا حجام کیا حجامت بنوانے والے اور کیا حجامت کے منتظر ۔ ۔ سب ہی دکان کے ایک اونچے کونے پر نصب چھوٹے سے ٹی وی پر پورے جوش اور انہماک کے ساتھ پڑوسی فلم کا ایک سنسنی خیز ہاکی میچ سین دیکھنے میں مشغول تھے ۔ ۔ "وہ مارا۔۔۔!!" گول ہوتے ہی ایک نوجوان نے جوشیلے انداز میں مٹھی لہرا کر نعرہ مارا اور فضا بیک گراؤنڈ میں چلنے والے پڑوسی ملک کے ترانے سے گونج اٹھی ۔ ۔ ۔
ٹھش ش ش۔۔۔!!!
ابھی جشن پورا نہیں ہوا تھا کہ ایک بڑا سا پتھر گولی کی رفتار سے آ کر سیدھا اسکرین پر لگا اور ٹی وی ٹوٹنے کی زوردار آواز نے سب کو سکتے میں ڈال دیا۔
"ابے ۔ ۔ پھر توڑ دیا میرا ٹی وی ۔ ۔ یہ مستانہ کہاں سے گھس آیا تھا دکان میں
ہفتہ، 8 اگست، 2015
یہ میری ماں ہیں (دوسرا اور آخری حصہ)
یہ میری ماں ہیں:
اگلے دن جب مسز تھامسن کلاس میں داخل ہوئیں تو انہوں نے اپنی عادت
مستمرہ کے مطابق اپنا روایتی جملہ "آئی لو یو آل" دہرایا ۔ مگر وہ جانتی
تھیں کہ وہ آج بھی جھوٹ بول رہی ہیں۔ کیونکہ اسی کلاس میں بیٹھے ایک بے ترتیب
بالوں والے بچے جیڈی کے لیے جو محبت وہ آج اپنے دل میں محسوس کر رہی تھیں وہ کلاس
میں بیٹھے اور کسی بچے کے لیے ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ لیکچر کے دوران انہوں نے حسبِ
معمول ایک سوال جیڈی پر داغا اور
یہ میری ماں ہیں (حصہ اول)
یہ میری ماں ہیں:
مسز تھامسن امریکہ کے ایک چھوٹے سے شہر گارلینڈ میں پرائمری اسکول
کلاس 5 کی ٹیچر تھیں۔ ان کی ایک عادت تھی کہ وہ کلاس شروع کرنے سے پہلے ہمیشہ
"آئی لو یو آل" بولا کرتیں۔ مگر وہ جانتی تھیں کہ وہ سچ نہیں کہتیں۔ وہ
کلاس کے تمام بچوں سے یکساں پیار نہیں کرتی تھیں۔ کلاس میں ایک ایسا بچہ تھا جو
مسز تھامسن کو ایک آںکھ نہ بھاتا۔ اس کا نام جیڈی تھا۔ جیڈی میلی کچیلی حالت میں
اسکول آجایا کرتا۔ اس کے بال بگڑے ہوئے ہوتے، جوتوں کے تسمے کھلے ہوئے، قمیض کے
کالر پر میل کا نشان۔ ۔ ۔ لیکچر کے دوران بھی اس کا دھیان کہیں اور ہوتا۔ مسز
تھامسن کے ڈانٹنے پر وہ چونک کر انہیں دیکھنے تو لگ جاتا مگر اس کی خالی خولی
نظروں سے
عادل نیوز: جرمن ہمارے؟؟؟
عادل نیوز کی عادلانہ خبر - جرمن ہمارے ۔۔؟؟
(عادل نیوز کی پہلی چھوٹی ننھی منی سی مگر یادگار قسط جس کے بعد عادل نیوز کے طوفان انگیز مزاحیہ خبر سلسلے کا آغاز ہوا اور ہزاروں لوگوں کے دل میں گھر کر گیا!!)

جھومتی جھامتی خبر کے مطابق گذشتہ برس وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کے جرمنی دورے پر جرمنی فوج اور حکام نے پاکستانی قومی ترانہ چلا کر خراجِ عقیدت پیش کیا تھا جس کی ویڈیو پاکستان تک اب پہچی ہے۔ شرکاء کا کہنا ہے کہ جرمن فوجیوں کو بالخصوص پاکستانی قومی ترانے کے بول یاد کروائے گئے تھے اس لیے انہوں نے خوب لہک لہک کر دھن کے ساتھ قومی ترانہ پڑھا جبکہ پاکستانی حکام اس دوران ذیرِ لب کچھ عجیب سے بول بڑبڑاتے رہے اور ترانے کے اختتام پر ایک لیگی وزیر نے تو پرجوش انداز میں میاں صاحب پر پھونکیں بھی دے ماریں۔
پاکستان میں یہ ویڈیو پہنچنے پر پاکستانی عوام میں
فاسٹ باؤلر اور فاسٹ سینچریاں
فاسٹ باؤلر اور فاسٹ
سینچریاں:
"ناظرین 'عادلانہ کمنٹری'
باکس سے میں ہوں آپ کا کمنٹیٹر فراز عادل آپ کے ساتھ لائیو۔"
1990:
مایہ ناز فاسٹ باؤلر وسیم اکرم بال کو ہاتھ میں محبوب کی زلف کی طرح گھماتے ہوئے بیٹسمن کی جانب دوڑے اور ہاتھ تیزی سے گھما کر بال بیٹسمین کی جانب روانہ کر دی۔ بال 360 ڈگری پر گردش کرتی ہوئی بیٹسمن کی جانب لپکی ۔ ۔ بیٹسمن کی آنکھوں کی پتلیاں بال پر مرکوز ہونے کے باعث چند ہی لمحوں میں چکرا چکرا کر ساکت ہو چکی ہیں اور وہ پتھرائی ہوئی نظروں سے اسے دیکھنے لگا ہے۔ ۔ ناظرین بال نے
مایہ ناز فاسٹ باؤلر وسیم اکرم بال کو ہاتھ میں محبوب کی زلف کی طرح گھماتے ہوئے بیٹسمن کی جانب دوڑے اور ہاتھ تیزی سے گھما کر بال بیٹسمین کی جانب روانہ کر دی۔ بال 360 ڈگری پر گردش کرتی ہوئی بیٹسمن کی جانب لپکی ۔ ۔ بیٹسمن کی آنکھوں کی پتلیاں بال پر مرکوز ہونے کے باعث چند ہی لمحوں میں چکرا چکرا کر ساکت ہو چکی ہیں اور وہ پتھرائی ہوئی نظروں سے اسے دیکھنے لگا ہے۔ ۔ ناظرین بال نے
مسئلہ فیس بک!!
مسئلہ فیس بک!!

مسئلہ فیس بک!!
اماں یار یہ مارک
زکربرگ تو لگتا ہے فیس بک کا ٹھیکہ سندھ حکومت کے حوالے کر کہ برنس روڈ پر پشاوری
آئسکریم بیچ رہا ہے آج کل۔ غضب خدا کا عجب ہیجان انگیز کیفیت برپا ہے پیجز پر۔
آدھے سے زیادہ لوگوں کو کہانیاں پوری نہیں مل پا رہی ہیں اور دھمکیاں مجھے سننے کو
مل رہی ہیں "بھائی کب کرو گے پوسٹ؟" "بھائی کیا آدھی پوسٹ کر دی
دوبارہ سے اور کتنا انتظار کریں ہم؟" کچھ لوگوں کے مسیج پڑھ کر تو ایسا لگتا
ہے جیسے میرے گھر کی دیوار ٹاپ کر اندر آن کودینگے اور کہانیوں کی ڈکیتی مار کر
لیجائینگے۔ جبکہ
گدھ کون؟
گدھ ۔ ۔
دوستو یہ تصویر 'کیون کارٹر' نامی ایک فوٹو جرنلسٹ نے جنوبی سوڈان کے دورے پر لی جس میں ایک بیمار لاغر
بچہ بھوک سے نڈھال بیٹھا ہے اور اس سے کچھ فاصلے پر ایک گدھ اس کے مرنے کے انتظار میں ہے تاکہ وہ اسے اپنی خوراک بنا سکے۔ کیون کارٹر سمیت کسی بھی جرنلسٹ کو ان بچوں کو ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں تھی کیونکہ ان سے بیماریاں لگنے کا خدشہ تھا اس لیے وہ اسے اٹھا کر کسی محفوظ مقام پر نہ لے جا سکا۔ ویسے بھی
پیر، 27 جولائی، 2015
عادل نیوز - والہانہ عقیدت
عادل نیوز - والہانہ عقیدت:
(نوٹ: عادل نیوز پلیٹ فارم کافی عرصہ سے پوری ذمہ داری کے ساتھ ملک کی
مایوس کن سیاسی صورتحال سے مزاح کھود کھود کر نکالتا آ رہا ہے اور آپ کے چہروں پر
مسکراہٹیں بکھیرتا آ رہا ہے۔ اگر آپ اپنے لیڈران سے اتنی ہی والہانہ عقیدت رکھتے
ہیں جتنی کہ بالکل نہیں رکھنی چاہیے تو براہِ مہربانی عادل نیوز پڑھنے سے گریز
کریں کیونکہ یہ آپ کو 'تیر' کی طرح چبھ سکتی ہے، 'بلے' کی طرح سر پر بج سکتی ہے
اور 'شیر' کی طرح چیر پھاڑ کر سکتی ہے۔ واضح رہے کہ عادل نیوز مکمل طور پر ایک
غیرجانبدار نیوز پلیٹ فارم ہے جیسا کہ ہمارے مایہ ناز رپورٹر رشید خبری نے ایک شب اپنے پسندیدہ مشروب کی چار چسکیاں لینے
کے بعد عادل نیوز کی شان میں فرمایا اور کیا ہی خوب فرمایا کہ:
جمعہ، 24 جولائی، 2015
نامعلوم فاختہ:
:نامعلوم فاختہ
Funny Urdu Stories Every Week!
Dove صابن کی تشہیری کیمپین کیلئے ہم اپنی پوری ٹیم کے ساتھ پاکستان آئے ۔ ۔یہاں ہم نے اپنی ماڈل کے ایک سائیڈ پر Dove لگایا اور ایک سائیڈ پر لاڈو صابن ۔ ۔ ماڈل کا منہ دھلوانے کیلئے ہم نے نل کھولا ہی تھا کہ پانی آنا بند ہوگیا ۔ ۔ ہمارے ساتھی نے موٹر چلانے کیلئے پلگ لگایا تو وولٹیج کی کمی کی وجہ سے موٹر جل گئی ۔ ۔ تھوڑی ہی دیر میں ایک دھماکے کی آواز آئی اور پتہ لگا کہ علاقے کا فیڈر ٹرپ ہوگیا ہے ۔ ۔ ہم ابھی موم بتی ڈھونڈ رہے تھے کہ ماڈل نے چیخیں مارنی شروع کردیں ۔ ۔ اس کی آنکھ میں صابن گھس گیا تھا ۔ ۔ ہم اسے لے کر باہر بھاگے اور گاڑی میں بٹھا کر ہسپتال لے جانے لگے ۔ ۔ ابھی مین روڈ پر نکلنے ہی لگے تھے کہ دو گروپوں کے درمیان تصادم ہوگیا اور گولی ہمارے ساتھی کو لگ گئی
پیر، 20 جولائی، 2015
عیدالبندوق؟
عیدالبندوق؟
![]() |
| Picture Source: http://www.dawn.com/ |
ایک وقت تھا جب عید پر بچے عید کارڈز لیا کرتے تھے ۔ ۔ رنگین
مارکرز سے دوستوں کے نام خلوص بھرے اشعار لکھتے اور بڑی توجہ سے جا کر دوستوں میں بانٹا
کرتے تھے ۔ ۔
آج کے بچے عید کا چاند نظر آتے ہی خوفناک قسم کی بندوقیں
لے آتے ہیں اور گلی گلی مورچہ بند ہو کر دوستوں پر بلا اشتعال 'چھائرنگ' کرتے نظر
آ رہے ہوتے ہیں ۔ ۔ جہاں ہماری کوشش ہوتی تھی اپنے بہترین دوست کو سب سے اچھا شعر اور
محبت بھری سطریں لکھ کر دیں ۔ ۔ وہاں ان بچوں کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے بہترین دوست
کی آنکھ چھرا مار کر باہر نکل دیں۔
عید کے دنوں میں گھر سے باہر نکلنے سے پہلے اچھی طرح دائیں
بائیں دیکھنا پڑتا ہے کہ
اتوار، 19 جولائی، 2015
داستان ۔ ۔ !!
داستان ۔ ۔
![]() |
| Pic Source 1: https://www.worldslastchance.com Pic Source2:http://saber-studio.aminus3.com/ Pic Source 3: http://interestingliterature.com/ |
15
جولائی، سنہ 3089 ۔ ۔
تیسری جنگِ عظیم کے بعد اب دنیا لگ بھگ تمام سانس لینے والوں
سے محروم ہوچکی تھی۔ ۔ امریکہ برطانیہ فرانس
روس چین پاکستان بھارت سب نے ایک دوسرے پر جوہری بم گرا کر دنیا کو تہس نہس کر دیا
تھا۔ ۔ ۔ مگر شاید قیامت اب بھی آنا باقی تھی
۔ ۔ کیونکہ کچھ اجسام اس تباہ شدہ دنیا میں ایسے موجود تھے جو اب بھی ہوا پانی خرچ
کر رہے تھے ۔ ۔ جو سفر کر رہے تھے ویران کھنڈرات
جیسی اس مسمار شدہ دنیا میں ۔ ۔ تاکہ اپنی
تاریخ جان سکیں ۔ ۔ اپنے نکتہ آغاز کا پتہ لگا سکیں ۔ ۔ بربادی کی پرتوں تلے دفن انسانی
تہذیبوں کو نکال سکیں تاکہ انسان جینے کا ڈھب دوبارہ سیکھ سکے ۔ ۔ بچی کچی انسانیت
کی آخری امیدیں ان سے وابستہ تھیں ۔ ۔
جمعرات، 16 جولائی، 2015
خود غرض
خود غرض ۔ ۔
نت نئے زرق برق لباس اور خوبصورت ستاروں سے مزین دوپٹوں کے
نظارے ۔ ۔ چمک لگی چوڑیوں کی شوخ سجاوٹیں ۔ ۔ بیگز اور جوتوں کی پرکشش نئی ورائٹی
۔ ۔ خوشبو خانوں سے اٹھنے والی بھینی
مسحور کن خوشبوئیں ۔ ۔ سینٹرل اے سی سے نکلنے والی یخ بستہ ہوائیں ۔ ۔ انعم کو شاپنگ مال کی ہر ہر ادا محبوب تھی۔ خاص طور پر عید پر تو مال میں شاپنگ کرنے کا مزہ ہی دوبالا ہوجاتا۔ ہر طرف خوشگوار چہل پہل، مسرت سے تمتماتے چہرے، کہیں قہقہے کہیں مسکراہٹیں۔ انعم مال آتی تو اس کا واپس جانے کا دل ہی نہ کرتا۔ ۔ ہر بار اماں اسے زبردستی پکڑ کر واپس لے جایا کرتیں ۔ ۔
"اماں اتنی جلدی؟" وہ منہ بسورتی۔
"بس بیٹا اس سے زیادہ سانس نہیں میری ٹانگوں میں۔ تو تتلی کی طرح اڑتی پھرتی ہے ہر جگہ ۔ ۔ پیچھے پیچھے تو مجھے ہی گھسٹنا پڑتا ہے نا!" اماں بمشکل جواب دے پاتیں اور انعم ان کی حالت دیکھتے ہوئے مجبوراً واپسی کا رخ کرتی۔
مگر اس بار صورتحال یکسر مختلف تھی۔
منگل، 14 جولائی، 2015
اسلامی عبادات کے حیرت انگیز فوائد (تیسری اور آخری قسط):
اسلامی عبادات کے حیرت انگیز فوائد (تیسری اور آخری قسط):
پچھلی دو اقساط میں ہم نے جانا کہ انسانی جسم میں کیسی حیرت
انگیز قوتیں گردش میں ہوتی ہیں، ان کے مراکز کہاں کہاں موجود ہیں اور کون سا مرکز
کن جسمانی حصوں سے منسلک ہے۔ (پچھلی اقساط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں 'پہلی قسط' 'دوسری قسط') اس کے علاوہ ہم نے جسم کے تمام انرجی پوائنٹس ایکٹو کر
کے جسم میں انرجی پیدا کرنے اور بیماریوں سے نجات حاصل کرنے کا ایک سیر حاصل اور
آسان طریقہ بھی جانا۔
جیسا کہ اب ہم جانتے ہیں کہ یہ شاندار قوتیں جسم میں موجود
ہوں تو انسانی جسم اور دماغ کی کارکردگی کئی سو گنا بڑھ جاتی ہے۔ تو پھر ایسا کیسے
ممکن ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے کامل دین میں ہمیں ان حیرت انگیز قوتوں کو حاصل
کرنے کا کوئی طریقہ نہ دے رکھا ہو؟ آج اس سلسلے کی تیسری اور آخری قسط میں ہم
دیکھینگے کہ اسلامی عبادات کیسے ان قوتوں پر اثرانداز ہوتی ہیں۔
جمعہ، 10 جولائی، 2015
اسلامی عبادات کے حیرت انگیز جسمانی فوائد (دوسری قسط)
اسلامی عبادات کے حیرت انگیز جسمانی فوائد (دوسری قسط)
'اسلامی
عبادات کے حیرت انگیز فوائد' کی پہلی قسط میں ہم نے جانا کہ انسانی جسم میں کیسی
غیر مرئی قوتیں یا انرجیز موجود ہوتی ہیں (جن حضرات نے پہلے قسط نہیں پڑھی وہ یہاں کلک کر کہ لازمی پڑھ لیں)۔ دوسری قسط میں ہم یہ دیکھیں گے کہ انرجی جسم میں
کیسے گردش کرتی ہے، کن مقامات پر محفوظ ہوتی ہے اور اس کا راستہ رکنے سے کیا ہوتا
ہے۔
اب ہم جانتے ہیں کہ ہوا اور غذا سے ہمیں ایک خاص قسم کی 'کی
انرجی' حاصل ہوتی ہے۔ مگر اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ انرجی محفوظ کہاں ہوتی
ہے؟
بدھ، 8 جولائی، 2015
ڈاکٹر گردی نامنظور!
ڈاکٹر گردی نامنظور!
آج پہلی بار کچھ لکھتے ہوئے ایسا ہو رہا ہے کہ مجھے بالکل سمجھ نہیں آ رہا کیسے شروع کروں کہاں ختم کروں کن
الفاظ کا انتخاب کروں کیسے اسے تشکیل دوں کیسے اس میں ربط پیدا کروں اس لیے جو میرے مخصوص ادبی انداز سے لطف اندوز ہونے کیلئے پڑھنا چاہتے ہوں ان سے پیشگی معذرت۔
یہ حادثہ میرے ایک قریبی عزیز کے رشتہ داروں کے ساتھ پیش آیا اور ان کے کہنے پر میں اسے تحریر کر رہا ہوں، اس حادثے کا طب سے متعلق کچھ پیجز نے بھی اشتراک کیا ہے مگر
میری درخواست ہے کہ آپ سب بھی اسے
اتوار، 5 جولائی، 2015
اسلامی عبادات کے حیرت انگیز فوائد (پہلی قسط)
اسلامی عبادات کے حیرت انگیز فوائد (پہلی قسط)
(انسان
کے جسم میں کون کون سی غیرمرئی قوتیں ہوتی ہیں؟ ان کی حقیقت کیا ہے؟ کیا ان سے
بیماریوں کا علاج ممکن ہے؟ اسلامی عبادات سے انسانی جسم کو کیسے کیسے حیرت انگیز
اور ناقابلِ یقین فوائد حاصل ہوتے ہیں؟ یہ سب اور بہت کچھ پڑھیے 'اسلامی عبادات کے
حیرت انگیز جسمانی فوائد' میں۔ ۔ ایک
منفرد اور انوکھا موضوع جس کے زیرِ بحث زاویوں پر اس پہلے کبھی کوئی تحقیق نہیں کی
گئی)
فی الوقت دنیا کا سب سے مشہور طبی مکتبہ فکر مغربی طب یا ویسٹرن میڈیسن ہے۔ مغربی
طب چونکہ جدید سائنسی علوم پر مبنی ہے اس لیے یہ بھی صرف مادی عوامل پر ہی بحث
کرتا نظر آتا ہے یعنی
منگل، 30 جون، 2015
جمعرات، 25 جون، 2015
حکایاتِ عادل: گدھے اور گھوڑے
حکایاتِ عادل: گدھے اور گھوڑے
کہتے ہیں کہ ہزاروں سال پہلے جب زمین بھی دور سے نظر آنے والے چاند کی طرح خوبصورت
ہوا کرتی تھی اور لوگوں کے دلوں میں اخلاص اور سچائی تاروں کی طرح چمکتی تھی ۔ ۔
بحر ِمنجمد سے متصل سرخ پہاڑوں کے عقب میں ایک ریاست "عدل نگر" ہوا کرتی
تھی۔۔ ریاست کی خوبی یہ تھی کہ چھوٹی سی ہونے کے باجود بیحد خوشحال تھی۔ ۔ سب لوگ
ہنسی خوشی رہتے، ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ۔ ۔ ہمسائیوں کا خیال رکھتے۔ ۔
کوئی بھی شخص
پیر، 22 جون، 2015
روزے میں گرمی توڑیں
روزے میں گرمی سے بچاؤ:
سب ہی گرمی سے پریشان اور لوڈ شیڈنگ سے عاجز ہیں لیکن موسم
اب بس بہتر ہوا ہی چاہتا ہے انشاء اللہ جیسا کہ خبروں میں بھی بتایا گیا ہے کہ پری
مون سون سسٹم سندھ میں داخل ہو چکا ہے۔ اللہ تعالی اپنے بندوں کو ان کی ہمت سے زیادہ
نہیں آزماتا۔
کچھ ممبرز کا اصرار ہے کہ روزے میں پیاس سے بچنے کے ٹوٹکے
بتاؤں۔ افسوس کہ میں زبیدہ آپا نہیں ورنہ
جمعرات، 11 جون، 2015
کارساز کی چڑیل ۔ ۔ ۔
قصہ کارساز کی چڑیل کا۔ ۔ ۔
گرمیوں کی حبس زدہ راتوں میں جب اچانک بجلی چلی جائے تو انسان کے اندر کا 'لنگوئسٹ' جاگ اٹھتا ہے، اس کیفیت میں انسان دل ہی دل میں ایسے الفاظ ایجاد کرتا ہے کہ شیطان بھی کانوں کو ہاتھ لگا کر وہاں سے لاحول پڑھتا دفع ہوجاتا ہے کہ ایسی 'وُکیبلری' تو ہمارے اجداد نے بھی نہ سوچی۔
شکایت کیلئے کال ملائیں تو جواب ملتا ہے کہ "جناب "لوڈ"
جمعرات، 4 جون، 2015
ایک پیغام والدین کے نام:
انتہائی قابلِ احترام والدینِ طفلانِ ارضِ پاکستان۔ ۔ اسلام و علیکم۔
بے شک کہ آپ کی چپلوں، چمڑے کی بیلٹوں، نصیحتوں اور دعاؤں میں اتنا
اثر ہے کہ ایک پیدائشی کرکٹر بچہ ایم-بی-اے کر کہ بینک میں نوکر ہو جاتا ہے، مگر
جس قوم میں والدین ایسا ظلم کرنے لگیں اسے پھر اسی طرح ہار کی ذلت اٹھانی پڑتی
جسطرح 15 فروری کو انڈیا نے ہمیں چھٹی بار چھٹی کا دودھ یاد کروا کر رسوا کیا۔
ابتداء میں
بدھ، 3 جون، 2015
مٹی کا طوفان . . کیوں اور کیسے؟
مٹی کا طوفان . . کیوں اور کیسے؟
سخت گرمی کی دوپہر میں اپنے بستر پر پسینے میں شرابور پڑے آپ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ آپ سے بہتر زندگی تو ان برفانی ریچھوں کی ہوتی ہے جو کم از کم برف میں پکڑم پکڑائی تو کھیلتے ہیں۔ سخت بیزاری کی کیفیت آپ کے دل و دماغ کو جکڑ لیتی ہے؛ گھر والوں کی بے اعتنائی، محبوب کی بے وفائی اور دوستوں کی دغا داری کا احساس بھی یکلخت دل میں بڑی والی پھانس کی طرح چبھنے لگتا ہے، مستقبل کے حوالے سے بھی آپ ایکدم سے کچھ تذبذب میں پڑ جاتے ہیں،
جمعہ، 29 مئی، 2015
میری بیٹی
میری بیٹی۔ ۔ ۔
پکی عمر کے آفاق صاحب پچھلے کئی دنوں سے سخت پریشان سے ںظر
آ رہے تھے ۔ ۔ میں نے ایک دن انہیں آفیس میں چھٹی کے بعد پکڑ لیا ۔ ۔ پریشانی کی وجہ پوچھی ۔ ۔ پہلے تو ٹالتے رہے آخر
ضبط نہ کر سکے ۔ ۔ کہنے لگے "میری بیٹی
مجھ سے ناراض ہے" ۔ ۔ میں نے وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ "اس کا کہنا
کے بچپن سے لیکر شادی کے معاملے تک میں نے اس کی کوئی بات نہیں مانی ۔ ۔ اس لیے اب
وہ اپنی ماں اور بہن بھائیوں سے تو ملتی ہے مگر میری شکل دیکھنا بھی نہیں پسند کرتی"
ان کی آنکھوں میں آنسو جھلملانے لگے۔ میں لرز کر رہ گیا۔ گھر جا کر سیدھا اپنی دو سال
کی معصوم سی گڑیا کے پاس گیا۔ ۔ وہ اپنے کھلونے سے کھیل رہی تھی۔ ۔ میں نے اس سے کھیلنے
کی کوشش کی مگر وہ مجھے نظر انداز کرنے لگی ۔ ۔
جمعرات، 7 مئی، 2015
عادل نیوز: فارم میں آرام لانڈری کے نام
فارم میں آرام لانڈری کے نام
Funniest Urdu News From Pakistan!
یا لفٹر سے اترنا ہو ۔ ۔
گھر سے تھیلے اٹھانے ہوں
کوئی ثبوت دکھانے ہوں
پھر ری-الیکشن جوکرنا ہو
میں اکثر بھول جاتا ہوں ۔ ۔ میں اکثر بھول جاتا ہوں ۔ ۔
یہ دردناک شاعری
کسی ادبی محفل میں نہیں بلکہ کورٹ میں سماعت کے دوران انصاف خان صاحب نے
پیر، 4 مئی، 2015
ہفتہ، 2 مئی، 2015
مزاحیہ آرٹیکل: تعارفِ علیل
تعارفِ علیل:
عزیز دوستو اسلام و علیکم،
میں جانتا ہوں کہ آپ تمام
دوست کئی دنوں سے نئی تحریر کا انتظار کر رہے ہیں مگر آپ کی اس ننھی سے خواہش کو
پورا کرنے میں ناکامی کا سامنا ہے۔ دوستو اس ناکامی کا ذمہ دار مجھے ٹھہرانا سراسر
زیادتی ہوگی، اس میں آدھا قصور طویل علالت اور آدھا میرے ڈاکٹر کی ذلالت کا ہے۔ 2
ہفتے پہلے کی بات ہے کہ
عادل نیوز: پول کھول دے
ہفتہ پول کھول دے
Urdu News At Its best!
آرٹیکل: یمن تنازعہ اور گریٹر اسرائیل
کچھ دوستوں نے فرمائش کی
ہے کہ یمن میں شروع ہونے والی جنگ سے متعلق لکھا جائے۔ اگرچہ میں کئی
سالوں
سے لوگوں کو یقین دلا رہا ہوں کہ میں ایک فکشن رائٹر ہوں یعنی کہانیاں وغیرہ لکھا
کرتا ہے مگر پھر بھی لوگ بضد ہیں تو پھر میں اپنی رائے اس بارے میں پیش کردیتا
ہوں۔ اس سے اختلاف



























